آگ کیسے لگی؟ اس وقت ہم بیان نہیں دے سکتے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ اس وقت ہم کوئی بیان نہیں دے سکتے کہ آگ کیسے لگی۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران شرجیل میمن نے کہا کہ گزشتہ رات جیسے ہی مارکیٹ میں آگ لگی، ریسکیو عملہ وہاں پہنچ گیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جن کے پیارے دنیا سے چلے گئے ہیں، اُن کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری، کمشنر، ڈی آئی جی سب لوگ وہاں موجود تھے، اس وقت بھی عمارت میں لگی آگ کو بجھانے کا عمل جاری ہے۔
سینئر وزیر سندھ نے مزید کہا کہ سب سے پہلا کام ریسکیو کا عمل مکمل کرنا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نےکمشنر کراچی کو کہا ہے تحقیقات کریں کہ آگ لگی کیسے، کس طرح پھیلی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ آگ لگنے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد ریسکیو عملہ پہنچا، جو مارکیٹ کے قریب فائر ٹینڈر تھی وہ جلدی پہنچی تھی۔
محکمہ فائر بریگیڈ کے اعلیٰ حکام کا موقف ہے کہ گل پلازا کی 1500 سے زائد دکانوں میں بیک وقت آگ بھڑکی۔
شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ پانی کے لیے بھی ٹینکرز منگوا لیے گئے تھے، ابھی بھی ٹینکرز کی قطار ہے، کراچی میں پرانی بلڈنگز کی تعداد ہزاروں میں ہے، آگ بجھانے کی سہولت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرانی بلڈنگز میں لوگوں کے گھر ہیں، مارکیٹ بنی ہوئی ہیں، پورے پاکستان میں یہی حالات ہیں، آگ بجھانے کے آلات عمارتوں میں نہیں، انکوائری رپورٹ میں آجائے گا آگ بجھانے کے لیے عملہ کتنی دیر میں پہنچا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شرجیل میمن نے کہا کہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔