باجوڑ عمائدین کاصوبے میں قیام امن کیلیے وزیراعلیٰ کا ساتھ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260119-08-24
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)باجوڑ میں ارکان اسمبلی اور عمائدین پر مشتمل جرگے نے صوبے میں قیام امن کے لیے وزیراعلیٰ کے پی کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔میڈیا کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع باجوڑ کے پارلیمنٹیرینز، قومی مشران اور عمائدین پر مشتمل جرگے کا انعقاد ہوا۔باجوڑ جرگے نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی۔ جرگے میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، پاک افغان تعلقات کی بہتری اور ترقیاتی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر باجوڑ میں حالیہ آپریشن میں جزوی متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے رقم 1لاکھ 60 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کرنے کا اعلان کردیا۔اجلاس میں شرکا کی جانب سے مستقل قیام امن کے بارے میں تجاویز پیش کی گئیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے قبائلی مشران، عوام، پولیس اور سیکورٹی فورسز نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، 2018ء میں قربانیوں کی بدولت ملک میں مکمل امن قائم ہو چکا تھا، اب حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں سے ہمیشہ حالات خراب ہوئے ہیں، امن و امان کے قیام کا مؤثر طریقہ قبائلی مشران اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی ہے، ہم کسی بھی ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، امن و امان کے لیے باجوڑ کے عوام اور قبائلی مشران کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام کے وقت 100 ارب روپے سالانہ کا وعدہ کیا گیا تھا، گزشتہ 7 سال میں صرف 168 ارب روپے دیے گئے، 532 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں، اے آئی پی کی مد میں وفاقی حکومت فنڈ نہیں دے رہی۔وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع کی مد میں پولیس میں بھرتیوں کے لیے عمر کی آخری حد بڑھانے کی ہدایت کردی۔ وزیراعلیٰ نے باجوڑ کے شہدا پیکیج پر کام تیز کرنے، امن کے قیام اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے قبائلی مشران کو سیکورٹی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ضم اضلاع کے لیے روشن قبائل پیکیج میں موجود اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر بنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قبائلی مشران امن کے کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔