Express News:
2026-07-24@02:33:36 GMT

بلدیاتی الیکشن سے گریز

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی سندھ اور کے پی کی حکومتوں میں بلدیاتی انتخابات کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے مسلسل گریز کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے مختلف بہانوں سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرا رہیں۔ وفاقی حکومت نے بھی پنجاب کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی کر دیے ہیں اور ملتوی کرنے کا جواز یہ بنایا ہے کہ اب اسلام آباد کا میٹروپولیٹن کارپوریشن کا نظام ختم کرکے اب اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر اب کراچی کی طرح تین ٹاؤن کارپوریشن قائم کی جائیں گی جس کے لیے صدر مملکت نے آرڈیننس بھی جاری کر دیا ہے۔

اسلام آباد کے تین ٹاؤنوں میں اتنی ہی یونین کونسلیں ہوں گی جتنی وفاقی حکومت نوٹیفائی کرے گی۔ وفاقی حکومت عوامی اعتراضات اور سفارشات سننے کے بعد ٹاؤن کارپوریشنوں اور یونین کونسلوں کی حدود میں ترمیم کر سکے گی۔ البتہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد کسی بھی قسم کی حد بندی میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اسلام آباد میں مقامی حکومت سے مراد ٹاؤن کارپوریشنیں اور یونین کونسلیں ہوں گی جہاں مقامی حکومتیں فعال نہیں ہوں گی وہاں حکومت ایڈمنسٹریٹر مقرر کرے گی۔

سربراہ سے مراد ٹاؤن کارپوریشن کا میئر یا یونین کونسل کا چیئرمین ہوگا۔ صدارتی آرڈیننس کے مطابق ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور دو ڈپٹی میئر ہوں گے۔ ہر یونین کونسل کا چیئرمین بطور جنرل ممبر ٹاؤن کارپوریشن کا حصہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی سے تعلق کے صدر مملکت نے وفاقی حکومت کے کہنے پر آرڈیننس جاری کردیا اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے اور نئے نظام کے نفاذ پر کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہاں کے نئے بلدیاتی نظام سے پیپلز پارٹی کا کوئی لینا دینا ہے نہ مقابلہ بلکہ وہاں مقابلہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہی ہونا ہے۔

ملک کی تمام جمہوری حکومتوں نے چاروں صوبوں میں بلدیاتی نظام کو مذاق بنا رکھا ہے جسے دنیا میں جمہوریت کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے مگر چاروں صوبوں نے اپنی اپنی مرضی کا بے اختیار بلدیاتی نظام منظور کرا رکھا ہے جو مقامی حکومت نہیں کہلاتا بلکہ صوبائی حکومتوں کے تابع بے اختیار صوبائی حکومت کا محتاج نظام ہے جس پر بیورو کریسی حاوی اور منتخب بلدیاتی عہدیدار صرف برائے نام بااختیار ہیں اور صوبائی حکومتیں جب چاہیں اس کمزور نظام کو ختم کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صدارتی آرڈیننس کے اگلے روز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اختیارات کی منتقلی بلدیاتی اداروں تک ہونی چاہیے اور بااثر و بااختیار بلدیاتی نظام مقامی حکومتوں کی شکل میں آرٹیکل 140-A کے تحت اور آئین کے مطابق ہونا ضروری ہے جو کہتا ہے کہ مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم ہونا چاہیے اس لیے رویے تبدیل کرکے ترامیم کریں اس کے بغیر کوئی فائدہ نہیں۔ قانون سازی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا کام ہے لیکن قانون ساز مقامی سطح کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت اختیارات مقامی حکومتوں کی جو بات کی ہے وہ سو فی صد درست ہے مگر خود وفاق اور صوبے آئین کی یہ آرٹیکل ماننے سے انکاری ہیں اور انھوں نے اپنے اپنے صوبوں کے مقامی حکومتوں کے نظام کو بے اختیار بنا رکھا ہے اور جو قانون سازی کر رکھی ہے وہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل 140-A کے برعکس ہے اور سندھ و بلوچستان اور کے پی میں وہاں کی اسمبلیوں نے جو قانون بنا رکھے ہیں اس کے تحت کہیں مقامی حکومت نہیں بلکہ میونسپل ادارے ہیں جن کے پاس بااختیار مقامی حکومتوں جیسے وسائل ہیں نہ ان کے سربراہوں کے پاس مالی و انتظامی اختیارات اور وفاقی حکومت نے آرڈیننس کے تحت عجیب ہی بلدیاتی نظام چاروں صوبوں سے بالکل مختلف ہے جہاں کوئی ایک مرکزی ادارہ مقامی حکومت جیسا نہیں ہوگا اور اسلام آباد میں کراچی کی طرح تین ٹاؤن کارپوریشنیں ہوں گی اور اسلام آباد کا میٹروپولیٹن کارپوریشن نظام ہی ختم کر دیا گیا ہے۔

کراچی کی 26 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنیں بلدیہ عظمیٰ کراچی کا حصہ ہیں جس کا سربراہ میئر ہے۔ اسلام آباد کی تینوں ٹاؤن کارپوریشنوں کا سربراہ میئر کہلائے گا جب کہ کراچی میں چیئرمین کہلاتا ہے۔ پنجاب میں میونسپل کارپوریشن لاہور کا سربراہ لارڈ میئر کہلاتا تھا جب کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کی سب سے بڑی بلدیہ عظمیٰ کا سربراہ میئر کہلاتا ہے۔

سندھ حکومت ملک کے سب سے بڑے شہر کے میئر کو لاہور کی طرح لارڈ میئر کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہے اور کے ایم سی میں صرف ایک ڈپٹی میئر ہے جب کہ اسلام آباد کی تین ٹاؤن کارپوریشنوں میں دو دو ڈپٹی میئر ہوں گے۔ پنجاب کے پہلے بلدیاتی نظام میں ڈپٹی میئروں کی تعداد زیادہ تھی مگر سندھ حکومت نے ڈپٹی میئر صرف ایک رکھا ہے۔ پنجاب کی موجودہ (ن) لیگی حکومت نے بلدیاتی اداروں کے جو نئے قوانین بنائے ہیں وہ جماعت اسلامی نے عدلیہ میں چیلنج کر دیے ہیں اور پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے بھی انھیں ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

وفاق اور پنجاب میں الیکشن کمیشن نے متعدد بار دونوں جگہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا اور (ن) لیگ کی دونوں حکومتوں نے ان پر عمل نہیں ہونے دیا اور کئی بار یہ الیکشن ملتوی ہو چکے ہیں۔ کے پی میں بے اختیار بلدیاتی عہدیدار تین سالوں سے پی ٹی آئی کی حکومت سے اختیارات مانگ رہے ہیں مگر نہیں دیے جا رہے اور وہاں اب بھی بلدیاتی نمایندے احتجاج کر رہے ہیں۔ 2015 میں ملک میں سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے ۔ سپریم کورٹ ہی آرٹیکل 140-A کے تحت مقامی حکومتیں بنوا اور انھیں اختیارات دلا سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات ٹاو ن کارپوریشن اسلام آباد میں مقامی حکومتوں آرٹیکل 140 A کے بلدیاتی نظام وفاقی حکومت پیپلز پارٹی مقامی حکومت کا سربراہ بے اختیار ڈپٹی میئر پی ٹی آئی تین ٹاو ن حکومت نے رکھا ہے ہیں اور ہوں گی ہے اور کے تحت

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن