پاکستان پوسٹ لائف انشورنس نے صارفین کے اربوں روپے کے واجبات روک لیے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260119-05-12
ماتلی (جسارت نیوز)پاکستان پوسٹ لائف انشورنس کارپوریشن، جو طویل عرصے تک پاکستان پوسٹ آفس کا ایک معتبر اور قابلِ اعتماد ادارہ رہا اور حال ہی میں اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ ایک پرائیویٹ کمپنی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، گزشتہ دو سے ڈھائی سال سے اپنے صارفین کے اربوں روپے کے واجبات مسلسل روک کر بیٹھا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ صارفین کو نہ پریمیم کی ادائیگیاں موصول ہو رہی ہیں، نہ بونس دیے جا رہے ہیں اور نہ ہی میچورٹی کی رقوم مقررہ وقت پر ادا کی جا رہی ہیں، جس کے باعث ہزاروں خاندان شدید مالی مشکلات، ذہنی دباؤ اور ذلت و خوارگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان پوسٹ لائف انشورنس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں سرکاری ملازمین شامل ہیں، جن میں اساتذہ، پروفیسرز اور وفاقی و صوبائی محکموں کے دیگر اہلکار نمایاں ہیں۔ یہ ملازمین برسوں تک اپنی تنخواہوں میں سے ماہانہ، ششماہی یا سالانہ بنیادوں پر پریمیم جمع کرواتے رہے۔ تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ کئی صارفین کی متعدد قسطیں سرکاری ریکارڈ میں جمع ہی نہیں ہوئیں، جبکہ اس عمل کے ذمہ دار متعلقہ اہلکار ریٹائر ہو چکے ہیں، جس کے باعث رقوم کی ریکوری کا کوئی واضح طریقہ باقی نہیں رہا۔سب سے زیادہ متاثر وہ صارفین ہیں جنہوں نے پندرہ سے بیس سال تک صبر و تحمل کے ساتھ اپنی رقوم اس امید پر جمع کروائیں کہ میچورٹی پر یہ رقم ان کے اہم منصوبوں میں معاون ثابت ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان پوسٹ
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔