data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میرپورخاص(نمائندہ جسارت)میرپورخاص میں تعلیم کے شعبے میں انتظامی نااہلی کی ایک حیران کن اور تشویشناک مثال سامنے آئی ہے، جہاں ڈائریکٹر تعلیم میرپورخاص کی جانب سے ایک ایسے استاد کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے جو پانچ ماہ قبل وفات پا چکا ہے تفصیلات کے مطابق ضلع تھرپارکر کے تعلقہ ڈیپلو کے گاؤں صِدھوئی کے رہائشی پرائمری اسکول ٹیچر سنتوش کمار پانچ ماہ قبل انتقال کر گئے تھے مرحوم کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو چکا ہے، تنخواہ کا بینک اکاؤنٹ بلاک ہے اور خزانہ (ٹریزری) کو بھی تمام تر معلومات فراہم کی جا چکی ہیں۔ اس کے باوجود محکمہ تعلیم میرپورخاص کے ڈائریکٹر فقیر محمد خاصخیلی کی جانب سے مرحوم استاد کے نام پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، جس میں انہیں اسکول میں ڈیوٹی نا دینے پر دس دن کے اندر میرپورخاص آفس میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اس واقعے نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی اور مانیٹرنگ سسٹم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی استاد کے تبادلے کے لیے رشوت دی جائے تو رات گئے بھی فائلیں چل پڑتی ہیں، مگر ایک انسان کے انتقال کے باوجود پانچ ماہ تک ریکارڈ اپڈیٹ نا ہونا انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ فہم ہے مزید یہ کہ محکمہ تعلیم کے مانیٹرنگ افسران جو ہر ماہ اسکولوں کے دورے کرتے ہیں، ان کی رپورٹس کہاں ارسال کی جاتی ہیں؟ اگر مانیٹرنگ کا نظام مؤثر ہوتا تو ایسا شرمناک واقعہ کبھی پیش نا آتا.

شہریوں اور اساتذہ تنظیموں نے اس معاملے کی فوری انکوائری، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور ریکارڈ کی بروقت اپڈیٹ کے لیے مؤثر اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک مرحوم استاد کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی بدحالی اور انتظامی غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ اگر فوت شدہ افراد کے ساتھ یہ سلوک ہے تو زندہ ملازمین کے حالات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار