Jasarat News:
2026-07-24@01:48:46 GMT

دنیا کی دولت اور غربت کا طوفان …

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غربت اب ایک خطرناک طوفان کی شکل اختیار کر چکی ہے، ساری دنیا کی دولت چند اشرافیہ کے بینکوں میں بیکار پڑی ہوئی ہے، انسان پریشان ہے، انسانوں کو جانوروں کی سی صورتحال درپیش ہے بلکہ اس سے بھی ابتر، لیکن امیر، امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ قیامت صغریٰ برپا ہے انسان جہنم میں دھکیلے جا رہے ہیں، آخر اس اشرف المخلوقات کا حشر کیونکر ایسے کیا جا رہا ہے، شاید اپنے گناہوں کی سزا ہے جو بھگت رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے ایک سروے پڑھا ہے جس کے مطابق ساری دنیا کی دولت کا تخمینہ تقریباً 500 ٹریلین ڈالر ہے۔ اسے اگر آٹھ ارب انسانوں پر یکساں تقسیم کر دیا جائے تو ہر انسان کے حصے میں 60 ہزار یو ایس ڈالر یعنی ایک کروڑ ستر لاکھ روپے کی رقم آئے گی۔

اسی طرح خشکی پر قابل استعمال حصہ زمین تقریباً پچاس فی صد مان لیا جائے تو اس کا 33 فی صد انسانی ملکیت ہو سکتا ہے۔ اس ملکیت میں ریاستی اور انفرادی ملکیت دونوں شامل ہیں۔ اس زمین کو اگر پوری انسانی آبادی پر مساوی تقسیم کیا جائے تو ہر انسان کو 32.

5 ملین اسکوئر فٹ یعنی 5970 کنال اور ایکڑ میں بات کریں تو تقریباً 746 ایکڑ ہر انسان کے حصے میں آئے گی۔

کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس ساٹھ ہزار ڈالر تو دور ساٹھ ہزار روپے بھی نہیں ہیں؟ اور پھر کروڑوں نہیں اربوں ایسے ہیں جن کے پاس 746 ایکڑ تو دور 746 اسکوائر میٹر یا اسکوائر فٹ بھی زمین کی ملکیت نہیں ہے۔ ایسا کوئی نظام کبھی نہیں آئے گا کہ کسی اور کی محنت کا پھل آپ کو مل جائے۔ آپ وقت برباد کرتے رہیں، اور وقت کی قدر کرنے والوں کی محنت آپ کی جھولی میں ڈال دی جائے۔ آپ کسی گاؤں گلی محلے شہر صوبے ملک خطے تک خود کو محدود کیے رکھیں اور ان ساری قیدوں سے نکل جانے والے آپ کی مدد کو آئیں۔ آپ ان پڑھ اور غیر ہنر مند رہیں، بزدل اور کام چور رہیں۔ جبکہ پڑھے لکھے، ہنر مند، فرض شناس اور بہادر لوگوں کا حاصل آپ کو دے دیا جائے۔ آپ رات دیر تک جاگ کر صبح دیر تک سوتے رہیں اور سورج سے پہلے بروقت جاگنے والے آپ پر ترس کھا کر آپ کو اپنے برابر لے آئیں کہ جی یہ آپ کا حق ہے۔ آپ کی خالی جھولی، آپ کی خالی جیب، آپ کا خالی دماغ، آپ کا خالی بینک اکاؤنٹ کبھی بھی کوئی نہیں بھرے گا۔ یہ آپ کا کام ہے۔ آپ اسے چند سال میں کر سکتے ہیں۔ ایک آپ جیسا آدمی اسٹور کیپر تھا۔ دو سو ڈالر تنخواہ تھی۔ اسے افریقا میں وہی جاب چودہ سو ڈالر میں ملی۔ وہ جاب کی تلاش میں رہتا تھا۔ دو سو سے بڑھا کر چار سو ڈالر گھر خرچ کر دیا۔ اور ایک ہزار ڈالر کی ماہانہ بچت میں آج پانچ سال بعد اس کے پاس ساٹھ ہزار ڈالر جمع ہو چکے ہیں۔ یعنی وہ اس دنیا کی مجموعی دولت میں سے اپنا کم سے کم حصہ حاصل کر چکا ہے۔ اسے یہ حصہ بھیک لاٹری دھوکا فراڈ سے نہیں ملا۔ اس نے محنت سے کمایا ہے۔ گورمے بیکری کے اسٹور سے نکل کر ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے اسٹور کا محافظ بنا ہے۔ اس کے پاس دو مرلے جگہ نہیں تھی۔ آج جہاں ملازمت ہے وہاں کا باسی بن جائے تو تیس چالیس ایکڑ خرید سکتا ہے۔

یہ دنیا بہت بڑی ہے۔ ہم سب کی ہے۔ جہاں ہم پیدا ہوئے وہیں برے حالات میں کئی نسلوں تک جینا اور پھر وہیں مر جانا ہمیں کس نے سکھایا؟ کس نے یہ پروگرام ہمارے ہارڈ وئیر میں انسٹال کر دیا کہ آج کا کما لیا کل کی کل دیکھیں گے؟ ماہانہ آمدن سے آگے سوچ ہی نہیں، اور ساری عمر کی بدترین غلامی کے بدلے بڑھاپے کی چند ہزار پنشن قبول کر لو، وہ بڑھاپا جو شاید سب پر آتا ہی نہیں۔ کس نے بتایا کہ امیر اور بااثر، کمزوروں اور غریبوں کو دبا کر رکھتے ہیں؟ ایسا ہے بھی تو وہ ایک مخصوص حد تک آپ کو دبا سکتے ہیں۔ وہاں سے نکل جانے پر کون آپ کو روک سکتا ہے؟ جن پنجروں میں آپ نے خود کو قیدکر رکھا ہے۔ نکالو خود کو ان خود ساختہ جیلوں سے باہر۔ بھلاؤ اس ساری بوسیدہ لرننگ کو جس نے تمہارا دو وقت کا چولہا جلانا مشکل کر رکھا ہے۔ بہت ہی معمولی اور جائز ضرورتوں کا ہر روز گلا گھوٹتے ہو۔ اور قصور وار اس سب کا کسے ٹھیراتے ہو؟ حکومت کو؟ جرنیلوں کو؟ امیر لوگوں کو؟ اقتدار پر مسلط بومرز کو؟ نہ تو تمہارا جسم قید ہے نہ سوچ، نکالو خود کو اپنے گھونسلے سے باہر، انگلش کی ایک کہانی کے کردار سیگل بگلے کی طرح۔ اور اُڑو آزاد آسمان میں جہاں تک بھی جا سکتے ہو۔ اب پرواز تمہاری مرضی کی ہوگی اور یاد رکھو یہ آسمان کسی کی ملکیت نہیں۔ یہ ایک سروے ہے کتنا صحیح یا غلط لیکن ہوش اُڑانے والی صورتحال ہے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو ہم نے چھوڑ رکھا ہے شاید یہ عذاب الٰہی ہے ہم انسانوں پر۔

سردار احمد تبسم گڈانی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جائے تو دنیا کی خود کو کے پاس

پڑھیں:

دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا

لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا