Jasarat News:
2026-06-03@03:32:36 GMT

دنیا کی دولت اور غربت کا طوفان …

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غربت اب ایک خطرناک طوفان کی شکل اختیار کر چکی ہے، ساری دنیا کی دولت چند اشرافیہ کے بینکوں میں بیکار پڑی ہوئی ہے، انسان پریشان ہے، انسانوں کو جانوروں کی سی صورتحال درپیش ہے بلکہ اس سے بھی ابتر، لیکن امیر، امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ قیامت صغریٰ برپا ہے انسان جہنم میں دھکیلے جا رہے ہیں، آخر اس اشرف المخلوقات کا حشر کیونکر ایسے کیا جا رہا ہے، شاید اپنے گناہوں کی سزا ہے جو بھگت رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے ایک سروے پڑھا ہے جس کے مطابق ساری دنیا کی دولت کا تخمینہ تقریباً 500 ٹریلین ڈالر ہے۔ اسے اگر آٹھ ارب انسانوں پر یکساں تقسیم کر دیا جائے تو ہر انسان کے حصے میں 60 ہزار یو ایس ڈالر یعنی ایک کروڑ ستر لاکھ روپے کی رقم آئے گی۔

اسی طرح خشکی پر قابل استعمال حصہ زمین تقریباً پچاس فی صد مان لیا جائے تو اس کا 33 فی صد انسانی ملکیت ہو سکتا ہے۔ اس ملکیت میں ریاستی اور انفرادی ملکیت دونوں شامل ہیں۔ اس زمین کو اگر پوری انسانی آبادی پر مساوی تقسیم کیا جائے تو ہر انسان کو 32.

5 ملین اسکوئر فٹ یعنی 5970 کنال اور ایکڑ میں بات کریں تو تقریباً 746 ایکڑ ہر انسان کے حصے میں آئے گی۔

کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس ساٹھ ہزار ڈالر تو دور ساٹھ ہزار روپے بھی نہیں ہیں؟ اور پھر کروڑوں نہیں اربوں ایسے ہیں جن کے پاس 746 ایکڑ تو دور 746 اسکوائر میٹر یا اسکوائر فٹ بھی زمین کی ملکیت نہیں ہے۔ ایسا کوئی نظام کبھی نہیں آئے گا کہ کسی اور کی محنت کا پھل آپ کو مل جائے۔ آپ وقت برباد کرتے رہیں، اور وقت کی قدر کرنے والوں کی محنت آپ کی جھولی میں ڈال دی جائے۔ آپ کسی گاؤں گلی محلے شہر صوبے ملک خطے تک خود کو محدود کیے رکھیں اور ان ساری قیدوں سے نکل جانے والے آپ کی مدد کو آئیں۔ آپ ان پڑھ اور غیر ہنر مند رہیں، بزدل اور کام چور رہیں۔ جبکہ پڑھے لکھے، ہنر مند، فرض شناس اور بہادر لوگوں کا حاصل آپ کو دے دیا جائے۔ آپ رات دیر تک جاگ کر صبح دیر تک سوتے رہیں اور سورج سے پہلے بروقت جاگنے والے آپ پر ترس کھا کر آپ کو اپنے برابر لے آئیں کہ جی یہ آپ کا حق ہے۔ آپ کی خالی جھولی، آپ کی خالی جیب، آپ کا خالی دماغ، آپ کا خالی بینک اکاؤنٹ کبھی بھی کوئی نہیں بھرے گا۔ یہ آپ کا کام ہے۔ آپ اسے چند سال میں کر سکتے ہیں۔ ایک آپ جیسا آدمی اسٹور کیپر تھا۔ دو سو ڈالر تنخواہ تھی۔ اسے افریقا میں وہی جاب چودہ سو ڈالر میں ملی۔ وہ جاب کی تلاش میں رہتا تھا۔ دو سو سے بڑھا کر چار سو ڈالر گھر خرچ کر دیا۔ اور ایک ہزار ڈالر کی ماہانہ بچت میں آج پانچ سال بعد اس کے پاس ساٹھ ہزار ڈالر جمع ہو چکے ہیں۔ یعنی وہ اس دنیا کی مجموعی دولت میں سے اپنا کم سے کم حصہ حاصل کر چکا ہے۔ اسے یہ حصہ بھیک لاٹری دھوکا فراڈ سے نہیں ملا۔ اس نے محنت سے کمایا ہے۔ گورمے بیکری کے اسٹور سے نکل کر ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے اسٹور کا محافظ بنا ہے۔ اس کے پاس دو مرلے جگہ نہیں تھی۔ آج جہاں ملازمت ہے وہاں کا باسی بن جائے تو تیس چالیس ایکڑ خرید سکتا ہے۔

یہ دنیا بہت بڑی ہے۔ ہم سب کی ہے۔ جہاں ہم پیدا ہوئے وہیں برے حالات میں کئی نسلوں تک جینا اور پھر وہیں مر جانا ہمیں کس نے سکھایا؟ کس نے یہ پروگرام ہمارے ہارڈ وئیر میں انسٹال کر دیا کہ آج کا کما لیا کل کی کل دیکھیں گے؟ ماہانہ آمدن سے آگے سوچ ہی نہیں، اور ساری عمر کی بدترین غلامی کے بدلے بڑھاپے کی چند ہزار پنشن قبول کر لو، وہ بڑھاپا جو شاید سب پر آتا ہی نہیں۔ کس نے بتایا کہ امیر اور بااثر، کمزوروں اور غریبوں کو دبا کر رکھتے ہیں؟ ایسا ہے بھی تو وہ ایک مخصوص حد تک آپ کو دبا سکتے ہیں۔ وہاں سے نکل جانے پر کون آپ کو روک سکتا ہے؟ جن پنجروں میں آپ نے خود کو قیدکر رکھا ہے۔ نکالو خود کو ان خود ساختہ جیلوں سے باہر۔ بھلاؤ اس ساری بوسیدہ لرننگ کو جس نے تمہارا دو وقت کا چولہا جلانا مشکل کر رکھا ہے۔ بہت ہی معمولی اور جائز ضرورتوں کا ہر روز گلا گھوٹتے ہو۔ اور قصور وار اس سب کا کسے ٹھیراتے ہو؟ حکومت کو؟ جرنیلوں کو؟ امیر لوگوں کو؟ اقتدار پر مسلط بومرز کو؟ نہ تو تمہارا جسم قید ہے نہ سوچ، نکالو خود کو اپنے گھونسلے سے باہر، انگلش کی ایک کہانی کے کردار سیگل بگلے کی طرح۔ اور اُڑو آزاد آسمان میں جہاں تک بھی جا سکتے ہو۔ اب پرواز تمہاری مرضی کی ہوگی اور یاد رکھو یہ آسمان کسی کی ملکیت نہیں۔ یہ ایک سروے ہے کتنا صحیح یا غلط لیکن ہوش اُڑانے والی صورتحال ہے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو ہم نے چھوڑ رکھا ہے شاید یہ عذاب الٰہی ہے ہم انسانوں پر۔

سردار احمد تبسم گڈانی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جائے تو دنیا کی خود کو کے پاس

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا