ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60ممالک کو ارسال، رکنیت کیلئے 1ارب ڈالر دینے کی شرط عائد
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60ممالک کو ارسال، رکنیت کیلئے 1ارب ڈالر دینے کی شرط عائد WhatsAppFacebookTwitter 0 18 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو ارسال کر دیا گیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق چارٹر کے تحت طویل مدت کی رکنیت کے لیے 1 ارب ڈالر دینے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ چارٹر کے تحت جو ممالک غزہ امن بورڈ میں 3 سال سے زائد کی رکنیت چاہتے ہیں انہیں 1 ارب ڈالر سے زائد فنڈ دینے ہوں گے۔
چارٹر کے مطابق ہر رکن ملک چارٹر کے نفاذ کی تاریخ سے لے کر 3 سال کی مدت تک خدمات انجام دے گا۔ چارٹر کے مطابق غزہ امن بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ چارٹر کے مطابق تین سالہ رکنیت کی شرط ان ممالک پر نہیں ہوگی جو پہلے سال میں بورڈ کے لیے1 ارب ڈالر سے زائد نقد رقم دیں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاوس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔میجر جنرل جیسپر جیفرز عالمی استحکام فورس کے کمانڈر مقرر کیے گئے ہیں، بورڈ آف پیس میں مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
ٹونی بلیئر، مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہیں، آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام بورڈ آف پیس کے لیے سینئر مشیر مقرر کیے گئے ہیں۔وائٹ ہاوس کے مطابق نکولے ملادینوف بورڈ آف پیس کے ایگزیکٹو رکن مقرر کیے گئے ہیں، نکولے ملادینوف غزہ کے لیے نمائندہ اعلی کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔گزشتہ سال کے اعلان کردہ منصوبے کے تحت بورڈ کے سربرا ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخواہ میں نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخواہ میں نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں محمود اچکزئی کی تقرری جمہوریت کیلئے مثبت ثابت ہوگی،چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلی سندھ کا گل پلازہ میں آتشزدگی کا نوٹس، کمرشل عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کی ہدایت باجوڑ ،ارکان اسمبلی اور عمائدین کا جرگہ، صوبے میں قیام امن کیلئے وزیراعلی کا ساتھ دینے کا اعلان ٹرمپ کی پاکستان کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی باضابطہ دعوت اسلام آباد کو غیر قانونی اشتہاری اور سائن بورڈز سے پاک کرنے کیلئے کارروائی کا آغازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔