اسرائیل کا غزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل مسترد کرنے کا اعلان، امریکی منصوبے پر تحفظات
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: اسرائیل نے غزہ میں مجوزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے اور اس حوالے سے اسرائیل سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ سے متعلق کسی بھی انتظامی یا سیاسی فیصلے میں اسرائیل کو نظر انداز کرنا قابلِ قبول نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ غزہ سے جڑے معاملات براہِ راست اسرائیل کی سلامتی اور قومی مفادات سے وابستہ ہیں، اس لیے کسی بھی بین الاقوامی یا علاقائی منصوبے میں اسرائیل کی رائے اور شمولیت ناگزیر ہے،غزہ کے مستقبل سے متعلق فیصلے یکطرفہ طور پر مسلط نہیں کیے جا سکتے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ خارجہ گڈیون سار نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ بورڈ آف پیس کے معاملے پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے بات کریں گے تاکہ اسرائیل کے تحفظات سے امریکی حکام کو آگاہ کیا جا سکے، اسرائیل اپنے سکیورٹی خدشات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق بورڈ کا مقصد غزہ میں سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ بورڈ فلسطینی اتھارٹی اور غزہ کی مستقبل کی حکومت میں اصلاحات کی راہ ہموار کرنے کے لیے بھی کام کرے گا، اسرائیل کی جانب سے اس منصوبے کی کھلی مخالفت کے بعد غزہ بورڈ آف پیس پر عملدرآمد اور اس کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غزہ بورڈ آف پیس
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔