غزہ بورڈ آف پیس کے اراکین کے ناموں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
میجر جنرل جیسپر جیفرز عالمی استحکام فورس کے کمانڈر مقرر، امریکی صدر کے داماد بھی شامل
نکولے ملادینوف ایگزیکٹو رکن مقرر۔غزہ کیلئے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گے
وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے اراکین کے ناموں کا اعلان کردیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق میجر جنرل جیسپر جیفرز عالمی استحکام فورس کے کمانڈر مقرر کیے گئے ہیں، وزیرخارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر کو بھی بورڈ آف پیس میں شامل کیا گیا ہے۔آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام بورڈ کے سینئر مشیر مقرر ہوئے ہیں جبکہ نکولے ملادینوف کو بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو رکن مقرر کیا گیا ہے جو غزہ کیلئے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ساتھ مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی بورڈ آف پیس کا حصہ بن گئے۔خیال رہے کہ غزہ میں بورڈ آف پیس کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے، یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور نظم و حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔