پاکستان میں صحافیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے، ملک یامین اعوان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں صحافیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے، تاہم اس کے باوجود وہ اور ان جیسے دیگر صحافی حق و صداقت کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔ یہ بات روزنامہ سحر اور جی ٹی وی کے چیف ایڈیٹر معروف سینئر صحافی ملک یامین اعوان نے جدہ میں یونائیٹڈ جرنلسٹس فورم کے سینئر رکن احسان مغل کی جانب سے عمرہ کی ادائیگی کے بعد اپنے اعزاز میں دیئے گئے ایک عشائیہ میں بطورمہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔۔ ملک یامین اعوان نے مزید کہا کہ صحافی کا اصل کام خبر کو عوام تک پہنچانا اور معاشرتی اصلاح میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی صحافت کے ذریعے حق کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انھوں نے تقریب کے میزبان احسان مغل اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا جو ہر بار ان کی آمد پر ایسی خوبصورت محفل کا اہتمام کرتے ہیں، جس کے باعث نہ صرف پرانے دوستوں سے ملاقات کا موقع ملتا ہے بلکہ صحافتی برادری کے ساتھ رشتہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ تقریب میں سماجی اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ جن میں یونائیٹڈ جرنلسٹس فورم کے چیئرمین جہانگیر خان، سینئر رکن سید فہدعلی، حاجی عثمان، پاک اوورسیزمیڈیا فورم کے سرپرستِ اعلیٰ سید مسرت خلیل، چیئرمین چوہدری ریاض گھمن، صدر شعیب الطاف، سینئر رکن مرزا مدثر، شباب بھٹہ اوردیگر شامل تھے۔ احسان مغل نے ملک یامین کوعمرہ کی سعادت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں حق بات کہنا آسان نہیں رہا، مگر ایک سچا صحافی کسی دباؤ کے بغیر سچ لکھنے سے نہیں گھبراتا۔ تقریب سے جہانگیر خان، چوہدری ریاض گھمن اورعدیل نذیر نے بھی خطاب کیا اورعمرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تقریب کا مقصد صحافتی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ باہمی روابط کو فروغ دینا بھی تھا۔ قبل ازیں تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت سینئر صحافی عدیل نذیر نے حاصل کی۔ نظامت کے فرائض جہانگیر خان نے انجام دیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملک یامین
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔