data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بجلی کے اخراجات کم کرنے کے لیے گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب کے ذریعے قابل تجدید توانائی حاصل کرنا نئی بات نہیں۔ مگر اب جرمنی میں سولر پینلز بالکونیوں میں بھی باآسانی انسٹال کروائے جا رہے ہیں۔بات جب کلائمیٹ چینج کا مقابلہ کرنے کی ہو تو توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی طرف منتقلی اور بھی اہم ہو جاتی ہے۔ جرمنی میں اس حوالے سے کافی پیش رفت دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر نجی گھروں کے استعمال کی شکل میں۔ چھوٹی سولر ڈیوائسز جو آسانی سے گھر کے ساکٹس میں لگائے جا سکتی ہیں، ملک میں پہلے سے زیادہ مقبول ہو رہی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں ایسے دس لاکھ سے زیادہ پینل انسٹال کیے جا چکے ہیں۔ یہ ماڈیولز عام طور پر تقریباً 2 مربع میٹر (21.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔