data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لانڈھی میں واقع میکو ٹیکسٹائل ملز کی انتظامیہ نے بغیر کسی پیشگی نوٹس اور کسی قانونی طریقہ کار کے 250 مزدوروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا، جو محنت کش قوانین کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔انتظامیہ نے متاثرہ مزدوروں کو ان کے قانونی واجبات ادا نہیں کیے، جن میںنوٹس پے، گریجویٹی، لیو انکیشمنٹ، بونس اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 5 فیصد اضافہ شامل ہے۔ مزدور محاذ عمل کے نائب صدر کامریڈ شاہد خان اور جوائنٹ سیکرٹری کامریڈ معشوق چانڈیو نے اس غیرقانونی، ظالمانہ اور مزدور دشمن اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل نہ صرف لیبر قوانین کی توہین ہے بلکہ سینکڑوں خاندانوں کو معاشی عدم تحفظ سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ میکو ٹیکسٹائل ملز انتظامیہ فوری طور پر برطرف کیے گئے تمام مزدوروں کو ان کے مکمل قانونی حقوق ادا کرے اور اس غیرقانونی فیصلے کو واپس لے۔ اس موقع پر مزدوروں کے لیے ان کے قانونی حقوق کے حوالے سے تربیتی نشست بھی منعقد کی گئی، جس میں لیبر قوانین، واجبات اور قانونی چارہ جوئی کے طریقہ کار پر تفصیلی آگاہی دی گئی۔ مزدوروں نے باقاعدہ طور پر اپنی شکایات بھی درج کروائیں۔ مزدورمحاذعمل نے واضح کیا کہ محنت کشوں کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا اور مزدوروں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف جدوجہد ہر فورم پر جاری رہے گی۔

 

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت