سندھ کے سرکاری محکموں میں قانونی طور پر لازم معلومات کا تقریباً نصف حصہ اب بھی خفیہ ہے، فافن
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک فافن کی سندھ کے سرکاری اداروں میں شفافیت سے متعلق جائزہ رپورٹ جاری کر دی گئی۔
فافن رپورٹ کے مطابق سندھ کے سرکاری ادارے قانونی طور پر مطلوب معلومات کا صرف 54 فیصد ظاہر کرتے ہیں، سندھ کے سرکاری محکموں میں قانونی طور پر لازم معلومات کا تقریباً نصف حصہ اب بھی خفیہ ہیں۔
فافن رپورٹ کے مطابق جائزے میں سندھ کے 61 سرکاری اداروں کا احاطہ کیا گیا، جائزے میں سندھ کے 36 سیکریٹریٹ محکمے اور 25 منسلک محکمے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قانون کے تحت 14 مختلف زمروں میں معلومات کی اشاعت لازمی ہے، فیصلہ سازی، مالی شفافیت، حقِ معلومات کے نفاذ سے متعلق نصف لازمی تاحال پوشیدہ رکھی گئیں۔
فافن رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں گورننس سے متعلق معلومات کا بھی فقدان ہے، گورننس سے متعلق صرف 15فیصد اداروں نے فیصلہ سازی کے طریقہ کار کی تفصیلات دیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف 10 فیصد اداروں نے انتظامی و ترقیاتی فیصلوں کی تفصیلات دیں، 54 فیصد اداروں نے جزوی یا مکمل بجٹ معلومات شائع کیں۔
فافن رپورٹ کے مطابق سبسڈی اور مراعاتی پروگراموں سے متعلق معلومات کی فراہمی انتہائی محدود رہی، سبسڈی اور مراعاتی پروگراموں سے متعلق صرف 5 فیصد اداروں نے متعلقہ تفصیلات شائع کیں۔
رپورٹ کے مطابق 7 فیصد اداروں نے رعایتوں اجازت ناموں، لائسنسز کی منظوریوں سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
سیکریٹریٹ محکموں نے اوسطاً 59 فیصد لازمی معلومات ظاہر کیں، منسلک محکمے صرف 48 فیصد معلومات فراہم کر سکے، سیکریٹریٹ محکموں میں محکمہ خزانہ، محکمہ سرمایہ کاری سب سے زیادہ شفاف قرار دیے گئے۔
فافن رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ بھی سب سے زیادہ شفاف قرار، 80 فیصد لازمی معلومات ظاہر کیں، محکمہ اطلاعات اور ہیومن رائٹس نے 73، بیورو آف اسٹیٹکس نے67 فیصد معلومات ظاہر کیں۔
رپورٹ کے مطابق 14 فیصد سرکاری اداروں نے پبلک انفارمیشن افسران کے رابطہ کی تفصیلات شائع کیں۔
فافن رپورٹ کے مطابق صرف 6 فیصد اداروں نے معلوماتی درخواستوں پر کارروائی کا ریکارڈ جاری کیا، جائزےمیں بیشتر سرکاری اداروں میں تعمیل سے متعلق نمایاں خلا سامنے آیا۔
فافن رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ سندھ کے صوبائی ادارے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے استفادہ کرتے ہوئے ازخود معلومات کی فراہمی کا عمل مضبوط بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فافن رپورٹ کے مطابق سندھ کے سرکاری فیصد اداروں نے سرکاری اداروں معلومات کا
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن