وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ نیپرا کی رپورٹ اگست 2025 میں جاری ہونا چاہیے تھی تاہم ناکافی اعداد و شمار کی وجہ سے اس رپورٹ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، یہ رپورٹ پاور سیکٹر کے درست منظرنامے کو پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے اور پہلی بار میرٹ پر فیصلے کرتے ہوئے مستقبل کے 8 ہزار میگاواٹ کے مہنگے منصوبے ختم کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کو 17 ارب ڈالر سے زیادہ کی بچت کا تخمینہ ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی زیادہ نقصانات والے بجلی کے فیڈرز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت

اویس لغاری نے کہاکہ بجلی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات عام صارف پر نہیں ڈالے جاتے اور اصلاحات کے ذریعے مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بجلی صارفین کو اپنے میٹر کی خود ریڈنگ کا اختیار دیا جا چکا ہے جبکہ جدید ترین سمارٹ فون ایپلی کیشن ’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘ اب تمام صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق 40 ارب روپے کی اوور بلنگ کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا گیا اور قومی سطح پر بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جون 2023 تک کے الیکٹرک کی عدم ادائیگی سے سرکلر ڈیٹ میں 640 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

اویس لغاری نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہاکہ مارچ 2024 میں بجلی کی قومی اوسط قیمت 53.

04 روپے فی یونٹ تھی جبکہ دسمبر 2025 میں یہ قیمت کم ہو کر 42.27 روپے فی یونٹ رہی۔

انہوں نے مزید کہاکہ گزشتہ 5 سالوں میں کے الیکٹرک نے 600 ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی حاصل کی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اب تک 16 لاکھ سمارٹ میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں اور اصلاحات کے نتیجے میں عوام پر 400 ارب روپے کے بوجھ میں کمی کا امکان ہے۔ 5 سے 6 سالوں میں گردشی قرض کی مکمل ادائیگی ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں: وزارت توانائی کی سال 2025 کی کارکردگی: بجلی صارفین کے لیے ریلیف

وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہاکہ بجلی صارفین کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومتی اقدامات سے گردشی قرض میں نمایاں کمی آئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اویس لغاری تحفظات کا اظہار نیپرا رپورٹ وزیر توانائی وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اویس لغاری تحفظات کا اظہار نیپرا رپورٹ وزیر توانائی وی نیوز اویس لغاری نے وفاقی وزیر انہوں نے ارب روپے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان