کے الیکٹرک کی ادائیگیاں نہ ہونے سے سرکلر ڈیٹ بڑھا، اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کے الیکٹرک کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے-الیکٹر نے بجلی کی ادائیگیاں بروقت نہیں کی جس کی وجہ سے سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہوا۔
30 نومبر 2025 تک 300 ارب روپے واجب الادا ہیں جبکہ 5 سال میں 600 ارب روپے سے زیادہ سبسڈی لی، حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے اور پہلی بار میرٹ پر فیصلے کرتے ہوئے مستقبل کے 8000 میگاواٹ کے مہنگے منصوبے ختم کیے گئے ہیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کو 17 ارب ڈالر سے زائد کی بچت کا تخمینہ ہے،8700میگا واٹ سرپلس بجلی موجود ہے لیکن ٹیک اینڈ پے کے کنٹریکٹس پر نظرثانی نہ کرنے کی بات درست نہیں، بجلی ترسیل کی نقصانات حکومت برداشت کرتی ہے۔
مزید پڑھیںبجلی بلز میں ٹیکس وصولی: کے الیکٹرک نے کے ایم سی کی طرف سے کتنی رقم جمع کی؟
کے الیکٹرک اور کانٹریکٹر کے درمیان ادائیگی کا معاملہ حل نہیں ہوسکا، تنازع پھر عدالت میں پہنچ گیا
ریکوریز کی شرح ایک سال میں 96.
وفاقی وزیر نے کہا نیپرا کی سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ اگست 2025 میں جاری ہونا چاہیے تھی تاہم ناکافی اعداد و شمار کی وجہ سے اس رپورٹ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، ڈیٹ سروس سرچارج کے-الیکٹرک اور دیگر ڈسکوز پر سرکلر ڈیٹ بڑھنے کی ذمہ داری کے باعث عائد کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔