گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر
اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو
سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، اس حادثے سے بھی ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی، حکومت سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو معاوضہ دے گی لیکن اولین ترجیح آگ بجھا کر عمارت کا سرچ آپریشن کرنا ہے، دوسرے مرحلے میں آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک افسوسناک واقعہ ہے، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ ہے، اطلاع ہے کہ عمارت میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں، سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ ان لوگوں کو بچایا جاسکے، مجھے 5 خاندان ایسے ملے ہیں جن کے لوگ لاپتہ ہیں، کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں عمارتیں موجود ہیں، کوشش کرسکتے ہیں ڈنڈے کے زور پر ہر چیز نافذ نہیں کرسکتے، عمارتوں کے ہزاروں افراد کیخلاف کارروائی نہیں کرسکتے۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے علاقے میں واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیدیا، وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو واقعے کی فوری انکوائری کرانیکی ہدایت جاری کرتے ہوئے آگ لگنے کی وجوہات معلوم کرنے اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، انہوں نے آگ کے باعث ہونیوالے جانی نقصان پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی ہیں کہ واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے، گل پلازہ میں موجود فائر سیفٹی انتظامات کی مکمل جانچ کی جائے اوریہ دیکھا جائے کہ آیا فائرسیفٹی قوانین پرعملدرآمد کیا جا رہا تھا یا نہیں، اگر تحقیقات میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔