فافن نے سندھ کے سرکاری محکموں میں شفافیت کی کمی عیاں کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260119-08-19
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی نئی رپورٹ میں سندھ کے سرکاری محکموں میں شفافیت کی کمی عیاں کر دی گئی۔فافن رپورٹ کے مطابق سندھ کے سرکاری محکمے قانون کے تحت مطلوب معلومات کا صرف 54 فیصد عوام تک پہنچا رہے ہیں جبکہ قانون کے تحت سرکاری اداروں کو 14 اقسام کی معلومات اپنی ویب سائٹس پر شائع کرنا لازمی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ کے 36 سیکرٹریٹ اور 25 منسلک محکموں کی ویب سائٹس کا جائزہ لیاگیا، بنیادی تنظیمی معلومات جیسے محکمے کے فرائض اور ذمے داریاں 95 فیصد ویب سائٹس پر دستیاب ہیں، عوامی خدمات اور متعلقہ قوانین کی معلومات بھی 95 فیصد اداروں نے جاری کیں۔سرکاری محکموں سے متعلق بتایا کہ انتظامی اور مالیاتی شفافیت سے متعلق اہم شعبوں میں صورت حال انتہائی ناقص ہے، صرف 15 فیصد محکموں نے فیصلہ سازی کے طریقہ کار اور 10 فیصد نے انتظامی و ترقیاتی فیصلوں کی تفصیلات شائع کیں۔مزید بتایا گیا کہ سبسڈی اور مراعات پانے والوں کی معلومات صرف 5 سے 7 فیصد اداروں نے جاری کیں، معلومات تک رسائی کے لیے مختص افسران کے رابطہ نمبر صرف 14 فیصد ویب سائٹس پر درج ہیں، سیکرٹریٹ ڈپارٹمنٹس نے 59 فیصد جبکہ اٹیچڈ ڈپارٹمنٹس نے صرف 48 فیصد معلومات جاری کیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت سندھ کے محکموں میں سب سے بہتر کارکردگی فنانس، انویسٹمنٹ اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی رہی، معلومات کی یہ کمی نہ صرف شفافیت میں رکاوٹ ہے بلکہ غلط اطلاعات اور افواہوں کو پھیلنے کا موقع بھی دیتی ہے۔فافن نے رپورٹ میں تجویز دیا کہ سرکاری اداروں کو اپنی ڈیجیٹل موجودگی کو بہتر بنا کر بروقت اور مستند معلومات عوام تک پہنچانی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رپورٹ میں ویب سائٹس سندھ کے
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔