سندھ میں انتظامی و مالیاتی شفافیت انتہائی ناقص ہے، فافن رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی نئی رپورٹ میں سندھ کے سرکاری محکموں میں شفافیت کی کمی عیاں کر دی گئی۔
فافن رپورٹ کے مطابق سندھ کے سرکاری محکمے قانون کے تحت مطلوب معلومات کا صرف 54 فیصد عوام تک پہنچا رہے ہیں جبکہ قانون کے تحت سرکاری اداروں کو 14 اقسام کی معلومات اپنی ویب سائٹس پر شائع کرنا لازمی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ کے 36 سیکریٹریٹ اور 25 منسلک محکموں کی ویب سائٹس کا جائزہ لیاگیا، بنیادی تنظیمی معلومات جیسے محکمے کے فرائض اور ذمہ داریاں 95 فیصد ویب سائٹس پر دستیاب ہیں، عوامی خدمات اور متعلقہ قوانین کی معلومات بھی 95 فیصد اداروں نے جاری کیں۔
سرکاری محکموں سے متعلق بتایا گیا کہ انتظامی اور مالیاتی شفافیت سے متعلق اہم شعبوں میں صورت حال انتہائی ناقص ہے، صرف 15 فیصد محکموں نے فیصلہ سازی کے طریقہ کار اور 10 فیصد نے انتظامی و ترقیاتی فیصلوں کی تفصیلات شائع کیں۔
مزید بتایا گیا کہ سبسڈی اور مراعات پانے والوں کی معلومات صرف 5 سے 7 فیصد اداروں نے جاری کیں، معلومات تک رسائی کے لیے مختص افسران کے رابطہ نمبر صرف 14 فیصد ویب سائٹس پر درج ہیں، سیکریٹریٹ ڈپارٹمنٹس نے 59 فیصد جبکہ اٹیچڈ ڈپارٹمنٹس نے صرف 48 فیصد معلومات جاری کیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت سندھ کے محکموں میں سب سے بہتر کارکردگی فنانس، انویسٹمنٹ اور وزیراعلی سیکریٹریٹ کی رہی، معلومات کی یہ کمی نہ صرف شفافیت میں رکاوٹ ہے بلکہ غلط اطلاعات اور افواہوں کو پھیلنے کا موقع بھی دیتی ہے۔
فافن نے رپورٹ میں تجویز دیا کہ سرکاری اداروں کو اپنی ڈیجیٹل موجودگی کو بہتر بنا کر بروقت اور مستند معلومات عوام تک پہنچانی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں