رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی تجارت کو بڑا دھچکا لگ گیا۔سرکاری دستاویز کے مطابق 6  ماہ کے دوران پاکستان کے بڑے شعبوں کی برآمدات گرگئیں، جبکہ جولائی تا دسمبر غذائی اجناس کی برآمدات میں 40.29 فیصد تک کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔دستاویز میں بتایا گیا کہ پہلی ششماہی میں غذائی اجناس کی برآمدات کا حجم 2 ارب 36 کروڑ ڈالر ریکارڈ ہوئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں حجم تقریبا 4 ارب ڈالرتھا۔سرکاری دستاویز کے مطابق 6  ماہ کے دوران چاول کی برآمدات میں 49.

90 فیصد، جولائی تا دسمبر سبزیوں کی برآمدات میں 36.80 فیصد، جبکہ مقامی خشک میوہ کی جات کی برآمدات میں 63.78 فیصد تک کمی ہوگئی۔اسی طرح جولائی تا دسمبر ٹیکسٹائل برآمدات میں 0.90 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا، پہلی ششماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 9 ارب 16 کروڑ ڈالر ریکارڈ ہوا۔دستاویز کے مطابق جولائی تا دسمبر ملکی پلاسٹک کے سامان کی برآمدات میں 43.66 فیصد کمی ہوئی، اسی طرح پہلی ششماہی میں فارما سیوٹیکل کی برآمدات میں 28.67 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے، جبکہ جولائی تا دسمبر ٹرانسپورٹ سامان کی برآمدات میں 36.51 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پہلی ششماہی میں جولائی تا دسمبر کی برآمدات میں ریکارڈ ہوئی کے دوران

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف