پاکستانی قوم دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کرنے کیلئے پر عزم ہے‘ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
لاہور(کامرس رپورٹر) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پاکستان انڈسٹریل سیونگ مشینز امپورٹرز اینڈڈیلرزایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین محمد یاسین نے ملاقات کر کے کاروباری حالات اورسکیورٹی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ وائس چیئرمین پسمیڈا محمد یاسین نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو بتایا کہ یہ صنعت پاکستان کی گارمنٹس ،ٹیکسٹائل ،فٹ وئیر اور لیدر انڈسٹریز کو سپورٹ فراہم کرتی اور برآمدی مصنوعات کی تیاری میں اس کا کلیدی کردار ہے ۔ انہوںنے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج اور دیگر لاء انفورسٹمنٹ اداروں کے کردار کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی تاجر برادری دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ ہے ۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی قوم دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لئے پر عزم ہے ، ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں ،غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کو بہترین سکیورٹی فراہم کی جائے گی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دہشتگردی کے محسن نقوی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔