اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر توانائی اویس لغاری نے نیپرا کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اووربلنگ کے نقصانات پر17 فیصد قابو پا لیا۔ وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ نیپرا نے سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ جاری کی یہ جون 2025ء کی ہے، اس حوالے سے نیپرا کو خط لکھیں گے جون میں ہی رپورٹ جاری کی جائے۔ نیپرا نے کہا 8 ہزار سات سومیگاواٹ بجلی سرپلس ہے۔ ہم نے اینڈ پے والے پلانٹس کیساتھ مذاکرات کیے۔ اِن آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کیے کچھ کو بند کیا اربوں روپے کا بوجھ کم کیا۔ اس حوالے سے نیپرا کو خط لکھیں گے، جون میں ہی رپورٹ جاری کی جائے۔ چھ ماہ پہلے اعداد وشمار سے کنفیوژن ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹر ریڈنگ کا اختیار عوام کو دے دیا، چالیس ارب روپے سے زائد اووربلنگ کی رقم صارفین کو واپس کی ہے۔ ریکوریز نہ ہونے سے گردشی قرض نہیں بڑھتا، 183 ارب کی مد میں اضافی ریکوریز کی ہیں۔ وزیر توانائی نے کہا کہ نیپرا کہتا ہے گردشی قرض میں کمی اصلاحات سے نہیں آئی یہ غلط ہے، ہم نے نقصانات کو 183 ارب کم کیا، لیٹ پیمنٹ سرچارج 260 اور اصلاحات سے 300 ارب کا بوجھ کم کیا۔ اْنہوں نے مزید کہا کہ غیرضروری بجلی کا 17 ارب ڈالر کا بوجھ مکمل ختم کر دیا، سبسڈی سے ہونیوالے نقصانات حکومت برداشت کرتی ہے۔ اصلاحات لاکر مسائل کم کر رہے ہیں، ایک سال میں میٹر ریڈر کا اختیار عام آدمی کو دیا گیا، 5 سے 6 سال میں گردشی قرض کی مکمل ادائیگی ہو جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن