اعداد و شمار پرانے ، نامکمل، اووربلنگ 17 فیصد کم ہوئی، نیپرا رپورٹ پر تحفظات ہیں: اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر توانائی اویس لغاری نے نیپرا کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اووربلنگ کے نقصانات پر17 فیصد قابو پا لیا۔ وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ نیپرا نے سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ جاری کی یہ جون 2025ء کی ہے، اس حوالے سے نیپرا کو خط لکھیں گے جون میں ہی رپورٹ جاری کی جائے۔ نیپرا نے کہا 8 ہزار سات سومیگاواٹ بجلی سرپلس ہے۔ ہم نے اینڈ پے والے پلانٹس کیساتھ مذاکرات کیے۔ اِن آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کیے کچھ کو بند کیا اربوں روپے کا بوجھ کم کیا۔ اس حوالے سے نیپرا کو خط لکھیں گے، جون میں ہی رپورٹ جاری کی جائے۔ چھ ماہ پہلے اعداد وشمار سے کنفیوژن ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹر ریڈنگ کا اختیار عوام کو دے دیا، چالیس ارب روپے سے زائد اووربلنگ کی رقم صارفین کو واپس کی ہے۔ ریکوریز نہ ہونے سے گردشی قرض نہیں بڑھتا، 183 ارب کی مد میں اضافی ریکوریز کی ہیں۔ وزیر توانائی نے کہا کہ نیپرا کہتا ہے گردشی قرض میں کمی اصلاحات سے نہیں آئی یہ غلط ہے، ہم نے نقصانات کو 183 ارب کم کیا، لیٹ پیمنٹ سرچارج 260 اور اصلاحات سے 300 ارب کا بوجھ کم کیا۔ اْنہوں نے مزید کہا کہ غیرضروری بجلی کا 17 ارب ڈالر کا بوجھ مکمل ختم کر دیا، سبسڈی سے ہونیوالے نقصانات حکومت برداشت کرتی ہے۔ اصلاحات لاکر مسائل کم کر رہے ہیں، ایک سال میں میٹر ریڈر کا اختیار عام آدمی کو دیا گیا، 5 سے 6 سال میں گردشی قرض کی مکمل ادائیگی ہو جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔