’زندگی مسلسل سفر کا نام ہے‘: موٹرسائیکل پر ملک بھر کا سفر کرنے والی بریرہ خان کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
بریرہ خان ایک فی میل سولو ٹریولر ہیں جو اپنی موٹر بائیک ’دھنو‘ پر ملک بھر میں سفر کرنے کے باعث پہچانی جاتی ہیں۔ ان کی 70 سی سی بائیک کبھی پہاڑوں کی بلندیوں پر تو کبھی میدانوں اور صحراؤں میں رواں دکھائی دیتی ہے۔ اسی سفر نے نہ صرف انہیں ایک منفرد شناخت دی بلکہ ان کے فن کی بنیاد بھی بنا۔
اس سال بریرہ خان نے اپنے اسی سفرنامے کو آرٹ ورک میں ڈھال کر نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) سے اپنی ڈگری مکمل کی ہے۔ ان کا فائنل پراجیکٹ این سی اے ڈگری شو کا حصہ ہے، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی، سفر اور جدوجہد کو فن کے ذریعے پیش کیا ہے۔
مزید پڑھیں: سی ایس ایس میں زبردست کامیابی، کوئٹہ کی معصومہ مغل نے یہ کام کیسے کیا؟
این سی اے کی طالبہ اور سولو ٹریولر بریرہ خان نے اپنی نمائش ’سفرنامہ‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ زندگی دراصل ایک مسلسل سفر کا نام ہے، بالکل ویسے ہی جیسے نیشنل کالج آف آرٹس میں گزارا گیا وقت۔ ان کے مطابق این سی اے کا یہ سفر ان کے لیے یادگار اور حیرت انگیز رہا، جس کی جھلک ان کے فن پاروں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگرچہ عوامی ردِعمل حوصلہ افزا ہے، مگر فن میں سب سے اہم چیز سچائی ہوتی ہے۔ ’جب فن سچا ہو تو وہ خود بخود نظر آتا ہے اور لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔‘
ان کے بقول ’سفرنامہ‘ محض ایک عنوان نہیں بلکہ زندگی کے تجربات، خوابوں، ٹھوکروں اور سیکھنے کے عمل کی علامت ہے۔
بریرہ خان نے بتایا کہ اس نمائش میں انہوں نے اپنے ذاتی سفر کے نشانات بھی شامل کیے ہیں، جن میں ایک ٹوٹا ہوا شیشہ بھی موجود ہے جو ایک حادثے کے بعد ان کے ساتھ رہا۔ اسی شیشے پر ان کے سفر کی پروجیکشن بھی دکھائی گئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ مسلسل جاری رہتا ہے۔
ان کے مطابق زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ راستے چھوٹ جاتے ہیں، مگر اس کے بدلے کچھ نیا بھی حاصل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ زندگی آسان نہیں ہوتی، مگر ہمیں اسے آسان بنانا آنا چاہیے، کیونکہ مشکلات کے باوجود زندگی خوبصورت ضرور ہوتی ہے۔‘
سولو ٹریولنگ کے دوران درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خاص طور پر رات کے قیام جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہمت اور حوصلہ ہی اصل طاقت ہے۔
انہوں نے کہاکہ مردانگی کسی ایک جنس سے وابستہ نہیں، یہ جرات اور حوصلے کی وہ صفت ہے جو ہر انسان میں ہونی چاہیے۔ بریرہ خان کے مطابق سفر ہی ان کی تخلیقی طاقت کا اصل ذریعہ ہے۔
مزید پڑھیں: روایات کو توڑتی ہوئی بہادر کشمیری لڑکی
ان کا کہنا تھا کہ اگر میں سفر نہ کروں تو میں کام بھی نہیں کر سکتی، کیونکہ میری تخلیق کی بنیاد ہی سفر اور ڈرائنگ ہے۔ ان کے فن پاروں کے عنوانات بھی اسی سفر کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں وہ اپنی زندگی اور جدوجہد کی علامت قرار دیتی ہیں۔ مزید جانیے کامران ساقی کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews این سی اے بریرہ خان فن کی دنیا تک فی میل سولو ٹریولر منفرد شناخت موٹرسائیکل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این سی اے فن کی دنیا تک موٹرسائیکل وی نیوز انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔