منشیات اسمگلنگ کے خلاف اے این ایف کا کریک ڈاؤن، 9 ملزمان گرفتار، 91 کلو سے زائد منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک بھر میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی، جس کے دوران 9 کاروائیوں میں 9 ملزمان گرفتار ہوئے جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 91.46 کلوگرام منشیات اور 86 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا غیر قانونی سامان برآمد کیا گیا۔
اہم کارروائیوں میں راولپنڈی کے کوریئر آفس سے کینیڈا جانے والے پارسل میں چھپائی گئی 873 گرام افیون، 66 گرام وزنی 188 ایکسٹیسی گولیاں اور برطانیہ سے آنے والے پارسل میں 76 گرام وزنی 2 کینابس آئل ویپ شامل ہیں۔
اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ سے 7 کلوگرام آئس اور 2.
کراچی کے سہراب گوٹھ سے 4.8 کلوگرام چرس اور سنگجانی ٹول پلازہ اسلام آباد سے 3.6 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔
ماڈل ٹاؤن اسلام آباد سے 395 گرام وزنی 500 سائکوٹراپک گولیاں، جبکہ جہلم کے ترکئی ٹول پلازہ سے 250 گرام چرس کے ساتھ ملزم گرفتار ہوا۔
کراچی کے دلدار عمرانی گوٹھ سے دو ٹریکٹروں میں چھپائی گئی 72 کلوگرام چرس بھی برآمد کی گئی۔
اے این ایف نے تمام کارروائیوں کے مقدمات انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر فراہم کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کلوگرام چرس اے این ایف
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔