اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک بھر میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی، جس کے دوران 9 کاروائیوں میں 9 ملزمان گرفتار ہوئے جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔

 ترجمان اے این ایف کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 91.46 کلوگرام منشیات اور 86 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا غیر قانونی سامان برآمد کیا گیا۔

اہم کارروائیوں میں راولپنڈی کے کوریئر آفس سے کینیڈا جانے والے پارسل میں چھپائی گئی 873 گرام افیون، 66 گرام وزنی 188 ایکسٹیسی گولیاں اور برطانیہ سے آنے والے پارسل میں 76 گرام وزنی 2 کینابس آئل ویپ شامل ہیں۔

اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ سے 7 کلوگرام آئس اور 2.

4 کلوگرام چرس برآمد ہوئی، جس میں 3 خواتین سمیت 5 ملزمان گرفتار ہوئے۔

کراچی کے سہراب گوٹھ سے 4.8 کلوگرام چرس اور سنگجانی ٹول پلازہ اسلام آباد سے 3.6 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔

ماڈل ٹاؤن اسلام آباد سے 395 گرام وزنی 500 سائکوٹراپک گولیاں، جبکہ جہلم کے ترکئی ٹول پلازہ سے 250 گرام چرس کے ساتھ ملزم گرفتار ہوا۔

کراچی کے دلدار عمرانی گوٹھ سے دو ٹریکٹروں میں چھپائی گئی 72 کلوگرام چرس بھی برآمد کی گئی۔

اے این ایف نے تمام کارروائیوں کے مقدمات انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر فراہم کریں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کلوگرام چرس اے این ایف

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا