شام میں امریکی فضائی حملہ، امریکیوں کی ہلاکت میں ملوث القاعدہ کمانڈر مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے شمال مغربی شام میں فضائی کارروائی کرتے ہوئے القاعدہ سے وابستہ ایک اہم دہشتگرد رہنما کو ہلاک کر دیا ہے، جسے دسمبر میں 3 امریکیوں کی ہلاکت کے واقعے سے براہِ راست منسلک قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شامی شہر حلب سے باغی جنگجوؤں کا مکمل انخلا، شہر پر حکومت کا کنٹرول قائم
امریکی حکام کے مطابق جمعے کے روز ہونے والے فضائی حملے میں بلال حسن الجاسم مارا گیا، جو القاعدہ سے وابستہ تھا اور اس داعش اسنائپر سے براہِ راست رابطے میں تھا جس نے 13 دسمبر کو شام کے شہر پالمیرا کے قریب گھات لگا کر 2 امریکی فوجیوں اور ان کے مقامی مترجم کو قتل کر دیا تھا۔ اس کارروائی کی تصدیق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کو جاری بیان میں کی۔
????????⚡ FLASH | Heavy clashes break out along the Deir Ezzor–Hasakah line! Syrian Army and SDF exchange fire in Al-Bukman, shattering a ceasefire declared just hours earlier.
— ATLASPULSE (@atlaspulse_1) January 19, 2026
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا تھا کہ 3 امریکیوں کی ہلاکت میں ملوث دہشتگرد کو نشانہ بنانا اس عزم کا ثبوت ہے کہ امریکی افواج پر حملہ کرنے والوں کا تعاقب ہر صورت کیا جائے گا۔ ان کے مطابق دہشتگردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، چاہے وہ حملوں کی منصوبہ بندی کریں یا انہیں عملی جامہ پہنائیں۔
یہ بھی پڑھیں:شامی ایئرپورٹ پر اسرائیلی میزائل حملہ، دو فوجی اہلکار ہلاک
یہ حملہ آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک کے تحت کیا گیا، جو دسمبر کے حملے میں جان سے جانے والے امریکی فوجیوں کی یاد میں شروع کیا گیا تھا۔ ان فوجیوں میں آئیوا نیشنل گارڈ کے سارجنٹ ولیم نیتھنیل ہاورڈ اور سارجنٹ ایڈگر برائن ٹوریس ٹووَر شامل تھے، جبکہ اس حملے میں ان کے ساتھ موجود امریکی مترجم ایاد منصور ساکت بھی ہلاک ہوئے تھے۔ واقعے میں 3 دیگر امریکی فوجی اور کئی شامی اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ فضائی کارروائی شمال مغربی شام کے ایک نامعلوم مقام پر کی گئی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملے میں الجاسم کے علاوہ کوئی اور شخص بھی مارا گیا یا نہیں۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک کے آغاز کے بعد سے امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں نے داعش کے بیس سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک اور 3 سو سے زیادہ کو گرفتار کیا ہے، جبکہ داعش کے ایک سو سے زائد ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے مراکز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ عناصر کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک امریکی مفادات اور اہلکاروں کو لاحق خطرات کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
القاعدہ امریکا شام
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: القاعدہ امریکا حملے میں
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔