سوشل میڈیا پر ’’امریکن بھابھی‘‘ کے پھر سے چرچے، امریکی خاتون شوہر سے ملنے پاکستان آگئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
پشاور:
سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ’’امریکن بھابھی‘‘ کے چرچے زوروں پر ہیں جن کی پاکستان آمد اور پختونخوا کے کلچر سے محبت نے صارفین کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
امریکی خاتون مینڈی حال ہی میں پاکستان آئیں جہاں انہوں نے خیبرپختونخوا کے ثقافتی رنگ، موسم اور عوام کی جانب سے ملنے والی محبت اور مہمان نوازی کو بے حد سراہا۔
پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے ملنے پاکستان آئی ہیں اور یہاں آکر انہیں بے حد خوشی محسوس ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کا کلچر، روایات اور لوگوں کا خلوص دل کو چھو لینے والا ہے جس نے انہیں بے حد متاثر کیا۔
مینڈی نے بتایا کہ وہ امریکا میں اپنے قیام کے بعد واپس ضلع دیر آگئی ہیں جو ان کے شوہر کا آبائی علاقہ ہے۔ ان کے مطابق پختون ثقافت اور قدرتی حسن نے ان پر گہرا اثر ڈالا ہے اور وہ آئندہ بھی پاکستان آنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
مزید پڑھیںمحبت کی خاطر کراچی آنے والی امریکی خاتون جناح اسپتال کے نفسیاتی وارڈ میں داخل
کراچی کے نوجوان نے امریکی خاتون کو کیوں ٹھکرایا؟ علی گل پیر نے وجہ بتادی
واضح رہے کہ 47 سالہ امریکی خاتون مینڈی نے گزشتہ سال جولائی میں اپر دیر کے رہائشی ساجد سے شادی کی تھی۔ دونوں کے درمیان تقریباً دو سال تک آن لائن دوستی رہی جس کے بعد مینڈی شادی کے لیے پاکستان آئی تھیں۔
ان کی یہ کہانی سوشل میڈیا پر ایک بار پھر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے اور صارفین مختلف تبصروں کے ذریعے دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی خاتون
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔