ٹی20 ورلڈکپ، بنگلادیش کے بھارت جانے سے انکارپرآئی سی سی دوسری ٹیم کو ایونٹ میں شامل کرسکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک کرکٹ ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر بنگلا دیش ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت جانے سے انکار کرتا ہے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) رینکنگ کی بنیاد پر کسی دوسری ٹیم کو ورلڈ کپ میں شامل کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش کی ورلڈ کپ میں شرکت یا عدم شرکت کا حتمی فیصلہ 21 جنوری کو متوقع ہے، جبکہ آئی سی سی نے ڈھاکا میں ہونے والے مذاکرات کے دوران بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو ڈیڈ لائن سے آگاہ کر دیا ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش اپنے مؤقف پر قائم ہے اور بھارت نہ جانے کے فیصلے میں کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں، جبکہ آئی سی سی نے بنگلا دیش کی جانب سے گروپ تبدیل کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔ واضح رہے کہ بنگلا دیش نے گروپ بی میں شامل آئرلینڈ کے ساتھ گروپ تبدیل کرنے کی درخواست دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق آئی سی سی نے بنگلا دیش کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت میں کسی ٹیم کو براہِ راست سکیورٹی خطرات لاحق نہیں، اور اس حوالے سے تمام 20 ٹیموں کو سکیورٹی مراسلہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
آئی سی سی بنگلا دیش کے حتمی جواب کا انتظار کرے گی، اور انکار کی صورت میں رینکنگ کی بنیاد پر اسکاٹ لینڈ کو ورلڈ کپ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش نے سکیورٹی خدشات اور حکومتی مشاورت کے بعد بھارت نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ خدشات آئی پی ایل سے بنگلا دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو بھارتی انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے نکالے جانے کے واقعے کے بعد مزید بڑھ گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔