امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ خریدنے کی کوشش اور اس کے لیے یورپ پر ٹیرف لگانے کی دھمکی نے عالمی مالی مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے۔ اسٹاک مارکیٹس گر گئی ہیں، ڈالر کی قدر کم ہوئی اور یورپی صنعتیں سخت دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ جرمن کار ساز کمپنیاں اور دیگر صنعتی شعبے اس اقدام سے خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ امریکہ یورپ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔

???????????????????????? ???????????????????????????? ???????????????? ???????????????????????????????????????? ???????????????? ????????-???????????????????????? ???????????????????? ????????????????????????????????

???????????????? ????????????????: https://t.

co/qsLVLmVP1B pic.twitter.com/bjfLj6kFnG

— Punch Newspapers (@MobilePunch) January 19, 2026

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، فن لینڈ اور برطانیہ کی مصنوعات پر 10 فیصد اضافی درآمدی محصولات عائد کریں گے، جو اگر کوئی سودا نہ ہوا تو یکم جون سے 25 فیصد تک بڑھ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ برائے فروخت نہیں، صدر ٹرمپ کے منصوبے کیخلاف ڈنمارک میں شدید احتجاج

اس فیصلے سے اسٹاک مارکیٹس میں شدید اتار چڑھاؤ آیا، EUROSTOXX 50 اور DAX فیوچرز 1.1 فیصد گر گئے، جبکہ جاپان کا نکیئی انڈیکس ایک فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔ یورو ڈالر کے مقابلے میں 0.26 فیصد بڑھا لیکن دن کے آغاز میں کم ترین سطح تک پہنچ چکا تھا۔

جرمن صنعت نے ٹرمپ کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انجینئرنگ ایسوسی ایشن VDMA کے صدر برٹرم کولاتھ نے کہا کہ یورپ کے خلاف اقتصادی دباؤ ڈال کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا ناقابل قبول ہے۔

جرمن کیمرا آف کامرس کے ماہر ولکر ٹریئر نے خبردار کیا کہ اگر یورپ ٹرمپ کی اس دھمکی کے آگے جھک گیا تو اس سے مزید غیر معقول مطالبات کا سلسلہ شروع ہوگا۔

جرمنی کی کار صنعت پر اس فیصلے کا براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔ وولکس ویگن نے 2025 میں اس ٹیرف کے باعث 5 ارب یورو کا نقصان دیکھا، جبکہ مرسڈیز بینز اور پورشے سمیت دیگر کمپنیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کا برطانیہ اور یورپی ممالک پر اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان

 جرمنی نے 2025 میں امریکا کو تقریباً 135 ارب یورو مالیت کی مصنوعات برآمد کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد کم تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سرمایہ کار اب ڈالر کی غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط ہو گئے ہیں۔ ڈالر کی کمزوری نے محفوظ کرنسیوں جیسے ین اور سوئس فرانک کو فائدہ پہنچایا، جبکہ بٹ کوائن میں بھی تقریباً 3 فیصد کمی آئی۔ سرمایہ کار عالمی سیاسی خطرات اور تجارتی غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط ہو گئے ہیں۔

یورپی یونین نے ٹرمپ کی دھمکی کو بلیک میلنگ قرار دیا ہے اور ممکنہ اقتصادی جوابی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یورپ متحد رہ کر مضبوط موقف اختیار کرے تو ٹرمپ کی یہ کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں۔ عالمی مارکیٹس کے لیے اس بحران کے اثرات آنے والے ہفتوں میں مزید واضح ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صدر ٹرمپ عالمی مارکیٹ گرین لینڈ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عالمی مارکیٹ گرین لینڈ

پڑھیں:

نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں

یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹو 

یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔

یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔

کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔

  —فوٹو بشکریہ انسٹاگرام

انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔

یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔

انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں