سولر صارفین کے لیے بری خبر، پینلز مہنگے ہونے لگے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان میں حالیہ دنوں کے دوران سولر پینلز کی قیمتوں میں فی واٹ تقریباً 8 سے 11 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، حالانکہ موسمِ سرما کو عموماً سولر انڈسٹری کا پیک سیزن نہیں سمجھا جاتا۔ سردیوں میں صارفین کی دلچسپی کم ہونے کے باعث مارکیٹ نسبتاً سست رہتی ہے، تاہم اس کے برعکس حالیہ قیمتوں میں اضافے نے صارفین اور سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔
سولر پینلز کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے ماہرین سے بات کی گئی، جنہوں نے عالمی اور صنعتی عوامل کو اس کا بنیادی سبب قرار دیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان; پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 01 خوارج واصلِ جہنم، 02 زخمی
سولر انڈسٹری کے ماہر شرجیل احمد سلہری کے مطابق چینی سولر ماڈیول مینوفیکچررز نے عالمی سطح پر مختلف عوامل کے باعث قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے سولر ماڈیولز کی برآمد پر دی جانے والی ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) ایکسپورٹ ریبیٹ میں کمی کر دی ہے، جو رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اس فیصلے سے برآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر درآمدی ممالک میں قیمتوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
بسنت 2026۔۔لاہوریوں کا امتحان
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس سولر انڈسٹری کو طویل عرصے تک مالی نقصانات کا سامنا رہا، جس کے بعد اب بڑے مینوفیکچررز اپنی لاگت پوری کرنے اور منافع بہتر بنانے کے لیے قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پولی سیلیکون، ایلومینیم، سلور اور کیبلز جیسے خام مال کی عالمی قیمتوں میں اضافے نے بھی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر انڈسٹری میں پرانی اور کم مؤثر ٹیکنالوجی کو جدید اور زیادہ بجلی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے دوران پرانی ٹاپ کون ماڈیولز کی پیداوار کم ہو رہی ہے، جس کے باعث ان کی دستیابی گھٹنے اور قیمتیں بڑھنے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
فرقان علی کی پیشہ ورانہ جرأت اور فرض شناسی عوامی خدمت کی اعلیٰ مثال ہے: صدرِ مملکت
پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ چینی حکومت کی جانب سے وی اے ٹی ایکسپورٹ ریبیٹ میں کمی ہے، جو اپریل سے مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ فیصلہ باضابطہ طور پر اپریل میں نافذ ہوگا، تاہم عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں کے اثرات پہلے ہی مقامی مارکیٹ میں محسوس ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سال کے آغاز میں چین میں نیو ایئر کی تعطیلات کے باعث امپورٹ اور ایکسپورٹ سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہر سال کے آغاز میں قیمتوں میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق انہی عوامل کی وجہ سے موجودہ اضافے کی وضاحت کی جا سکتی ہے، جبکہ 2026 میں فی واٹ مزید تقریباً 5 روپے اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔
گوجرانوالہ؛ بجلی چور مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن، اہم گرفتاری
سولر انڈسٹری کے ایک اور ماہر محمد گلباز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتیں پہلے ہی 20 سے 25 فیصد تک بڑھ چکی ہیں اور فی واٹ اضافہ 8 روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی کے اثرات براہِ راست درآمد کنندگان اور صارفین پر منتقل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 5 کلو واٹ کا سولر سسٹم جو پہلے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب اس کی قیمت 6 لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ 3 کلو واٹ کے سسٹمز پر بھی اسی نوعیت کا اثر پڑ رہا ہے۔
امریکی صدر کی وزیراعظم شہبازشریف کو غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ سولر انڈسٹری قیمتوں میں کے مطابق کے باعث رہا ہے
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔