پاکستان میں حالیہ کچھ دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں قریباً 8 سے 11 روپے فی واٹ اضافہ ہوا ہے، جبکہ عام طور پر موجودہ موسم کو سولر انڈسٹری کا پیک ٹائم نہیں سمجھا جاتا۔

موسمِ سرما میں صارفین کی جانب سے کم دلچسپی کے باعث سولر پینلز کی طلب محدود رہتی ہے، جس کے نتیجے میں سولر مارکیٹ عموماً سست اور نسبتاً ٹھنڈی دکھائی دیتی ہے، تاہم اس کے برعکس حالیہ دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے صارفین اور سرمایہ کاروں کو حیران کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور میں سولر پینلز کا اربوں کا فراڈ، تاجروں کے پیسے کس نے ہڑپ کیے؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں اس حالیہ اضافے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے۔

’چینی سولر ماڈیول مینوفیکچررز نے قیمتوں میں اضافہ متعدد عالمی اور صنعتی عوامل کی بنیاد پر کیا‘

سولر انڈسٹری کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا ہے کہ چینی سولر ماڈیول مینوفیکچررز نے قیمتوں میں اضافہ متعدد عالمی اور صنعتی عوامل کی بنیاد پر کیا ہے، جس کے اثرات براہِ راست مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے سولر ماڈیولز کی برآمد پر دی جانے والی وی اے ٹی، یعنی ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی ایکسپورٹ ریبیٹ میں کمی کر دی ہے، جو رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اس حکومتی فیصلے کے باعث سولر ماڈیولز کی برآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر امپورٹ کرنے والے ممالک میں قیمتوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

شرجیل احمد سلہری کے مطابق گزشتہ برس سولر انڈسٹری کو طویل عرصے تک مالی نقصانات کا سامنا رہا، جس کے بعد اب تمام بڑے مینوفیکچررز اپنی لاگت پوری کرنے اور منافع میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فوٹو وولٹک انڈسٹری میں استعمال ہونے والا خام مال جس میں پولی سیلیکون، ایلومینیم، سلور اور کیبلز شامل ہیں، عالمی منڈی میں تیزی سے مہنگا ہو رہا ہے۔ خام مال کی قیمتوں میں اضافے نے سولر پینلز کی پیداواری لاگت کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سولر انڈسٹری میں پرانی اور کم مؤثر پروڈکشن ٹیکنالوجی کو جدید اور زیادہ بجلی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے عمل کے دوران پرانی ٹاپ کون ماڈیولز کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے، جس کے باعث ان کی دستیابی کم اور قیمتیں زیادہ ہو رہی ہیں۔

شرجیل احمد سلہری نے مزید کہاکہ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے آنے والے دنوں میں سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے، جس سے صارفین اور سرمایہ کاروں دونوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

’عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں کا اثر فوری طور پر مقامی مارکیٹ پر پڑتا ہے‘

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ چینی حکومت کی جانب سے وی اے ٹی ایکسپورٹ ریبیٹ میں کمی ہے۔ اپریل سے 13 فیصد کا یہ ریبیٹ ختم ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں مینوفیکچررز کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔

’اگرچہ یہ تبدیلی رسمی طور پر اپریل میں نافذ ہوگی، تاہم پاکستان میں اس کا اثر پہلے ہی محسوس ہونا شروع ہو گیا ہے، کیونکہ عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں کا اثر فوری طور پر مقامی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔‘

ان کے مطابق دوسری بڑی وجہ سال کے آغاز میں چین میں تعطیلات اور نیو ایئر کی مدت ہے۔ جنوری کے آخر میں قریباً 20 سے 25 دن تک کام سست روی کا شکار رہتا ہے، جس سے امپورٹ اور ایکسپورٹ کی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں۔ اس سالانہ رجحان کی وجہ سے ہر سال کے شروع میں قیمتوں میں کچھ حد تک اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

حسنات خان کے مطابق یہی دو بنیادی عوامل موجودہ وقت میں سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں اضافے کی وضاحت کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے مارکیٹ میں اب سے ہی اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وی اے ٹی میں اس کمی کی وجہ سے 2026 میں سولر ماڈیولز کی قیمت میں فی واٹ قریباً 5 روپے اضافے کا امکان ہے۔

’پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتیں پہلے ہی 20 سے 25 فیصد تک بڑھ چکی ہیں‘

سولر انڈسٹری کے ماہر محمد گلباز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتیں پہلے ہی 20 سے 25 فیصد تک بڑھ چکی ہیں اور فی واٹ قیمت قریباً 8 روپے سے زیادہ ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: سولر پینلز کی درآمد پر کسٹم ویلیو میں کمی: کیا قیمتیں بھی نیچے آئیں گی؟

ان کے مطابق اس پالیسی سے چینی مینوفیکچررز کی لاگت میں اضافہ ہو گا جو براہ راست درآمد کنندگان اور صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 5 کلو واٹ کا سسٹم پہلے قریباً 5 لاکھ 50 ہزار روپے کا تھا جو اب 6 لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ کا ہو گیا ہے جبکہ 3 کلو واٹ کے سسٹم پر بھی یہی اثر پڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سولر انڈسٹری سولر پینلز قیمتوں میں اضافہ وجوہات وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سولر انڈسٹری سولر پینلز قیمتوں میں اضافہ وجوہات وی نیوز سولر پینلز کی قیمتوں میں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ سولر انڈسٹری پاکستان میں ان کے مطابق اضافہ ہو رہا ہے کا اثر

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟