ویب ڈیسک:  پاکستان نے اپنا پہلا مقامی اردو زبان کا مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل "قلب" لانچ کر دیا ہے۔ یہ ماڈل تیمور حسن نے تیار کیا ہے جو اس وقت امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ "قلب" کو دنیا کا سب سے بڑا لارج لینگویج ماڈل قرار دیا جا رہا ہے جو صرف اردو زبان کے لیے بنایا گیا ہے۔

 اس ماڈل کو 1.97 ارب ٹوکنز پر تربیت دی گئی اور سات سے زائد بین الاقوامی بینچ مارکنگ فریم ورکس کے ذریعے جانچا گیا۔ ڈویلپرز کے مطابق "قلب" موجودہ اردو پر مبنی اے آئی ماڈلز سے حقیقی دنیا کی کارکردگی میں بہتر ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان; پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 01 خوارج واصلِ جہنم، 02 زخمی

تیمور حسن ایک نوجوان انٹرپرینیور ہیں جنہوں نے اب تک 13 اسٹارٹ اپس لانچ اور کامیابی سے ایگزٹ کیے ہیں۔ وہ مائیکروسافٹ کپ کے فاتح رہ چکے ہیں اور کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ انہوں نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز مکمل کیا اور اب آبرن یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس اور سافٹ ویئر انجینئرنگ میں ماسٹرز کر رہے ہیں جہاں وہ جدید اے آئی اور ٹیکنالوجی منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بسنت 2026۔۔لاہوریوں کا امتحان

دنیا بھر میں 230 ملین سے زائد اردو بولنے والوں کے ساتھ، "قلب" کا مقصد ایک دیرینہ ٹیکنالوجی خلا کو پُر کرنا ہے تاکہ قومی زبان میں جدید اے آئی صلاحیتیں فراہم کی جا سکیں۔ یہ ماڈل مقامی کاروباروں، اسٹارٹ اپس، تعلیمی پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل سروسز اور وائس بیسڈ اے آئی ایجنٹس کے لیے معاون ثابت ہوگا۔ تیمور حسن نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے ٹیکنالوجی مستقبل میں حصہ ڈالنے کے وسیع مشن کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے انڈرگریجویٹ ساتھیوں، جواد احمد اور محمد اویس، کے ساتھ مل کر کام کیا اور ٹیم کا ارادہ ہے کہ مخصوص صنعتوں کے لیے مزید مقامی اے آئی ماڈلز کو بہتر بنایا جائے۔

فرقان علی کی پیشہ ورانہ جرأت اور فرض شناسی عوامی خدمت کی اعلیٰ مثال ہے: صدرِ مملکت

ٹیم نے کہا کہ جدت اب صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی۔ تیمور حسن کے مطابق جدید ٹیکنالوجی چھوٹی ٹیموں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ایسے ٹولز بنا سکیں جو تعلیم دیں، خودکار بنائیں اور لاکھوں لوگوں کی خدمت کریں، وہ بھی بغیر بڑے بجٹ کے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: تیمور حسن اے آئی

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا