Express News:
2026-06-02@22:32:41 GMT

مگرمل باغ قتلِ عام: 35 سال بعد بھی مظلوم کشمیریوں کے زخم تازہ ہیں

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

مقبوضہ کشمیر میں مگرمل باغ قتلِ عام کو 35 برس گزر گئے، تاہم یہ واقعہ آج بھی کشمیری عوام کے اجتماعی حافظے میں ایک دردناک باب کے طور پر محفوظ ہے۔

19 جنوری 1991 کو سری نگر کے علاقے مگرمل باغ میں بھارتی قابض فورسز نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کر دی تھی۔ یہ مظاہرین مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق کے حق میں جمع ہوئے تھے۔

عینی شاہدین اور رپورٹس کے مطابق بھارتی فورسز نے بغیر کسی وارننگ کے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 16 کشمیری شہری موقع پر جاں بحق جبکہ درجنوں افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔

یہ واقعہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال، ماورائے عدالت قتل اور عوامی آواز کو دبانے کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس طرح کے واقعات کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبے کو دبانے کی کوششوں کا حصہ رہے ہیں۔

مگرمل باغ قتلِ عام کو آج 35 سال مکمل ہو چکے ہیں، تاہم اس سانحے کی یاد آج بھی کشمیری عوام کے لیے انصاف اور آزادی کے مطالبے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی