مگرمل باغ قتلِ عام: 35 سال بعد بھی مظلوم کشمیریوں کے زخم تازہ ہیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
مقبوضہ کشمیر میں مگرمل باغ قتلِ عام کو 35 برس گزر گئے، تاہم یہ واقعہ آج بھی کشمیری عوام کے اجتماعی حافظے میں ایک دردناک باب کے طور پر محفوظ ہے۔
19 جنوری 1991 کو سری نگر کے علاقے مگرمل باغ میں بھارتی قابض فورسز نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کر دی تھی۔ یہ مظاہرین مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق کے حق میں جمع ہوئے تھے۔
عینی شاہدین اور رپورٹس کے مطابق بھارتی فورسز نے بغیر کسی وارننگ کے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 16 کشمیری شہری موقع پر جاں بحق جبکہ درجنوں افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔
یہ واقعہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال، ماورائے عدالت قتل اور عوامی آواز کو دبانے کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس طرح کے واقعات کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبے کو دبانے کی کوششوں کا حصہ رہے ہیں۔
مگرمل باغ قتلِ عام کو آج 35 سال مکمل ہو چکے ہیں، تاہم اس سانحے کی یاد آج بھی کشمیری عوام کے لیے انصاف اور آزادی کے مطالبے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔