دورہ پاکستان کیلئے آسٹریلیا کے 17 رکنی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) آسٹریلیا نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کے دورے کیلئے 17 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔
آسٹریلوی ٹیم کے اہم کھلاڑی پیٹ کمنز، جوش ہیزل ووڈ اور ٹِم ڈیوڈ انجری کے باعث اس دورے میں شامل نہیں ہوں گے۔
سلیکٹرز کے مطابق ان کھلاڑیوں کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل مکمل فٹنس حاصل کرنے کے لیے اضافی وقت دیا گیا ہے جس کے باعث وہ پاکستان کا مختصر دورہ مس کریں گے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز لاہور میں کھیلی جائے گی۔
ٹیم کی قیادت آسٹریلوی آل راونڈر مچل مارش کریں گے، اسکواڈ میں شان ایبٹ، زیویئر بارٹلیٹ، ماہلی بیئرڈمین، کوپر کونولی، بین ڈوارشوئس، جیک ایڈورڈز، کیمرون گرین، ٹریوس ہیڈ، جوش انگلس، میتھیو کوہنیمن، مچ اوون سمیت دیگر کھلا ڑی بھی شامل ہوں گے۔
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان 29 جنوری سے یکم فروری تک شیڈول ہے، پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز پاکستانی وقت کے مطابق شام چار بجے کھیلی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔