کالے بلدیاتی قانون کے خلاف ریفرنڈم
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کسی بھی معاشرے میں بلدیاتی انتخابات اور طلبہ یونین جمہوریت کی نرسری اور جمہوریت کی مضبوطی تصور کی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بلدیاتی اداروں پر قدغن لگائی جاتی ہے اور طلبہ یونین پر تو مکمل طور پر پابندی عائد ہے۔ بااختیار بلدیاتی نظام پاکستان میں ناپید ہوچکا ہے اور حکمران طبقہ اس کے ساتھ مکمل طور پر کھلواڑ کررہا ہے۔ پنجاب میں بلدیاتی قانون جمہوریت ہی نہیں عوام کی توہین اور آئین سے انحراف کے مترادف ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 140 اے کی بھی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ آئین کی دفعہ 140 اے کے مطابق تمام اختیارات صوبوں کو منتقل کر کے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرائیں جائیں۔ مسلم لیگ ن جس نے اپنا انتخابی نعرہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ لگایا تھا آج جب مرکز اور پنجاب میں پی ڈی اے اور مسلم لیگ کی حکومت ہے تو پھر پنجاب ایکٹ 2025 کے نفاذ کے ذریعے اختیارات عوامی نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی کو منتقل کیے جانا ایک المیہ اور ظلم کے مترادف اور جمہوریت کے منہ پر ایک زور دارطمانچہ ہے۔ پنجاب میں نوکر شاہی راج، بادشاہت یا ملکہ راج آئین اور جمہوریت سے انحراف ہے اور اس کالے قانون کو کسی طور پر بھی جمہوری تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
جماعت اسلامی جس نے روز اوّل سے ہر غلط اور غیر آئینی، غیر قانونی اقدامات کے خلاف کھل کر مزاحمت کی ہے اور وقت کے حکمرانوں کو للکارا ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے موجودہ امیر جناب حافظ نعیم الرحمن گو کہ مزاحمت کا استعارہ ہیں وہ جب جماعت اسلامی کراچی کے امیر تھے تو سندھ حکومت نے بھی ایک کالا بلدیاتی قانون نافذ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ جماعت اسلامی اور مرد قلندر حافظ نعیم الرحمن تھے جو کہ سندھ حکومت کے اس ظلم کے خلاف میدان عمل میں کود پڑے اور سندھ حکومت کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف ڈٹ گئے۔ جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنان نے سندھ اسمبلی کے سامنے 29 دن کا تاریخی دھرنا دیا اور جب تک سندھ حکومت نے یہ کالا قانون واپس نہیں یا حافظ نعیم الرحمن اور ان کے بہادر اور جرأت مند کارکنان دسمبر کی شدید سردی، آندھی طوفان اور بارشوں میں ڈٹے رہے اور کالے قانون کی واپسی تک یہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے اور کالے بلدیاتی قانون کے خاتمے کو ختم کرا کر ہی دم لیا۔
اب جب کہ پنجاب میں بھی بلدیات کا کالا قانون نافذ کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں گزشتہ دس برسوں سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے نچلی سطح پر عوام کو حق حکمرانی سے محروم رکھا گیا ہے۔ اسلام آباد میں تو پانچ مرتبہ قانون تبدیل کیا جا چکا ہے۔ صوبائی حکومتیں اقتدار پر قابض ہیں اور وہ نہیں چاہتی کہ عوام با اختیار ہو جائیں۔ پاکستان کے حکمران عوام سے خوفزدہ ہیں اور اسی لیے پنجاب کے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیاد پر کروائے جانے کی بات کی جارہی ہے جو کہ آئین اور جمہوریت کی خلاف ورزی ہے۔ موجودہ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بیوروکریسی کے تابع بنا کر عوامی فیصلہ سازی کا حق چھین لیا ہے اور اس کالے قانون کے ذریعے انتظامی مالیاتی اور فیصلہ کن اختیارات منتخب نمائندوں سے چھین کر افسر شاہی کو دے دیے گئے ہیں جس کی آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اس قانون کے تحت یونین کونسل کا چیئرمین بھی براہ راست ووٹ کے ذریعے منتخب نہیں ہوگا اسے ایک ماہ کے اندر کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہونا ہوگا۔ ایسا محض اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ حکمران طبقہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی طرز پر منتخب نمائندوں کی خریدو فروخت کے عمل کو نچلی سطح تک بھی لے جائیں۔ بلدیاتی انتخابات کے ذریعے منڈی نچلی سطح تک لگائی جائے۔ صوبائی حکومتوں کا بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرنے سے انکار دراصل عوام کو بنیادی جمہوری حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ نچلی سطح پر اختیارات منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں۔
پنجاب حکومت 2015 کے بعد سے بلدیاتی انتخابات کرانے میں مسلسل ناکام رہی ہے جو کہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ پنجاب ایکٹ 2025 ہر لحاظ سے ایک کالا قانون ہے اس کالے قانون کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔ فارم 47 کے ذریعے برسر اقتدار حکمرانوں نے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کا فیصلہ کیا ہے اس عوامی شب خون پر ہر ذی شعور سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ جماعت اسلامی نے پنجاب بلدیاتی کالا قانون کے خلاف 15 جنوری سے چار روزہ جس عوامی ریفرنڈم کا انعقاد کیا ہے وہ عوام کی آواز ہے۔ اس چار روزہ ریفرنڈم میں کروڑوں لوگوں مرد خواتین، طلبہ، بزرگ، مزدور، کسان، ڈاکٹر، انجینئر، علماء، اساتذہ، صحافیوں، دانشوروں، شاعر، ادیب سمیت زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات سے رائے معلوم کی جارہی ہے۔ پنجاب جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور پاکستان کی سیاست کا دل ہے بدقسمتی سے آج پنجاب میں گورننس تباہ ہوچکی ہے۔ تعلیم، صحت کے شعبوں کا بیڑا غرق ہوگیا ہے۔ پنجاب کے 14 ہزار اسکولوں کو فروخت کردیا گیا ہے ایسے حالات میں کالے بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی کا عوامی ریفرنڈم حقیقی معنوں میں جمہوریت کو مضبوط اور عوامی شعور کو بیدار کرے گا اور بااختیار بلدیاتی نظام اور حقیقی معنوں میں با اختیار مقامی حکومتوں کے قیام میں معاون ثابت ہو گا اور اس پر امن آئینی جدو جہد کے ذریعے پاکستان میں جمہوریت کو فروغ بھی حاصل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کالے بلدیاتی قانون کے بلدیاتی انتخابات قانون کے خلاف جماعت اسلامی میں بلدیاتی اور جمہوریت کالے قانون سندھ حکومت کالا قانون کے ذریعے نچلی سطح ہے اور کیا جا اور اس
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔