امریکی صدرکا پاکستان کو فلسطین کےمجوزہ بورڈمیں دعوت دیناعظیم کامیابی ہے: طاہراشرفی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو فلسطین سے متعلق مجوزہ بورڈ میں شمولیت کی دعوت ایک بڑی کامیابی ہے۔
امریکی صدر نے غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں شرکت کے لیے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو مدعو کیا ہے۔ اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ یہ دعوت پاکستان کے عالمی وقار اور اس کے مؤثر کردار کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اہم سفارتی کامیابی فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جس انداز میں اہلِ فلسطین کی نمائندگی اور ترجمانی کی، وہ قابلِ فخر ہے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں تاکہ پاکستان فلسطینی عوام کے لیے اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کر سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔