غزہ امن بورڈ میں شامل ہوں، ٹرمپ نے شہباز شریف کو دعوت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد+ غزہ+ قاہرہ (رپورٹ: عبدالستار چودھری+ نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) غزہ میں امن کے لیے عالمی کوششوں میں پاکستان کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہبازشریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت دے دی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق غزہ میں قیام امن کے لئے پاکستان کی شمولیت جاری رہے گی۔ وزیراعظم شہبازشریف کو صدرِ امریکہ کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت موصول ہو گئی ہے۔ پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے عالمی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا، تاکہ فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن کے لیے سفارتی، انسانی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون جاری رکھے گا۔ دنیا نے فلسطین پر پاکستان کے مستقل اور اصولی مؤقف کو تسلیم کر لیا۔ ذرائع کے مطابق غزہ فلسطین میں جنگ کے خاتمے، انتظامی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے ٹرمپ کی جانب سے GPP غزہ پیس پلان (Gaza Peace Plan) اور اس کے تحت Peace Board / Board of Peace جیسے مجوزہ انتظامی و سفارتی اقدامات زیرِ بحث ہیں۔ اسی تسلسل میں صدر ٹرمپ نے مختلف ممالک کے سربراہوں کو دعوت نامے ارسال کیے ہیں تاکہ وہ اس مجوزہ Peace Board کا حصہ بنیں اور جنگ بندی کے بعد داخلی استحکام، امدادی کارروائیوں، بنیادی سہولیات کی بحالی اور طویل المدتی سیاسی حل کی سمت میں مشترکہ کوششوں میں شریک ہوں۔ یہ خبر نہ صرف انتہائی مثبت ہے بلکہ ایک کامیاب سفارتی پیش رفت بھی ہے۔ وزیراعظمِ پاکستان کو ایسے عالمی پلیٹ فارم کے لیے دعوت ملنا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ، سفارتی وزن اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں رہے گا۔ اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا دیرپا اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیلی حکومتی پالیسی کے منافی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا بورڈ کی تشکیل کے معاملے پر اسرائیل سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ فلسطینیوں کے مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد کے ترجمان نے غزہ کے لیے بنائے گئے اس امن بورڈ کے ابتدائی ارکان کی نامزدگی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے نام ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ بورڈ کو اسرائیلی ترجیحات پورا کرنے کے لیے سامنے لایا گیا ہے تاکہ اس کے قبضے کے سلسلے میں مفادات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ بری نیتوں اور ارادوں کا کھلا اظہار ہے جو ہمیں جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے نظر آ رہی ہیں۔ غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کے عہدیداروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی تعمیر نو، سکیورٹی کے قیام اور بنیادی سہولیات کی بحالی پر توجہ دے گی، جس میں بجلی، پانی، صحت کی سہولیات اور تعلیم شامل ہیں۔ مصری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل حسن رشاد نے غزہ کی پٹی کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ علی شعث اور اس کے ارکان سے ملاقات کی اور اس دوران زور دیا کہ مصر اس کمیٹی کے کام کی کامیابی اور پٹی کے اندر اس کے فرائض کی انجام دہی میں تعاون کا ہمیشہ سے خواہش مند ہے۔ علی شعث اور کمیٹی کے ارکان نے غزہ کے حوالے سے مصر کی کوششوں کو سراہا اور صدر عبدالفتاح السیسی کے موقف، خاص طور پر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت اور مسئلہ فلسطین کے تحفظ کے حوالے سے ان کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کمیٹی کی ترجیحات میں غزہ کے شہریوں کی انسانی اور معیشتی حالت کو بہتر بنانا شامل ہے۔ انہوں نے تمام گزرگاہیں کھولنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ فلسطینیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ امدادی سامان اور ضروریاتِ زندگی پہنچائی جا سکیں۔ ملاقات کے دوران ان ضروری اقدامات پر بھی مشاورت کی گئی جو کمیٹی کو پٹی کے اندر اپنی مکمل ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنائیں تاکہ انسانی حالات کی بہتری اور استحکام میں مدد مل سکے۔ امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ غزہ کیلئے قائم کیے جانے والے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی رکنیت فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ مختلف ممالک سے اس بورڈ کی مستقل رکنیت کیلئے ایک ارب ڈالرکا مطالبہ کر رہی ہے۔ تجویز میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ خود اس بورڈ آف پیس کے چیئرمین ہونگے جبکہ بورڈ کی رکنیت فیصلوں کی حتمی منظوری اور مالی وسائل کے استعمال کا اختیار بھی انہی کے پاس ہوگا۔ رپورٹ میں مزید کہا کہ جو ممالک پہلے سال ایک ارب ڈالر ادا کریں گے انہیں رکنیت کی مدت کی کسی حد سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد غزہ سے متعلق فیصلوں اور مالی معاملات کے لئے ایک مرکزی بین الاقوامی فورم قائم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کے مطابق اس مجوزہ منصوبے نے عالمی سفارتی حلقوں میں بحث کو جنم دے دیا ہے جبکہ اس پر مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو ارسال کر دیا۔ واشنگٹن سے خبر ایجنسی کے مطابق چارٹر کے تحت طویل مدت کی رکنیت کے لئے ایک ارب ڈالر دینے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ چارٹر کے تحت جو ممالک غزہ میں بورڈ میں تین سال سے زائد کی رکنیت چاہتے ہیں انہیں ایک ارب ڈالر سے زائد فنڈ دینے ہونگے۔ ہر رکن ملک چارٹر کے نفاذ کی تاریخ سے لے کر تین سال کی مدت تک خدمات انجام دے گا۔ چارٹر کے مطابق غزہ امن بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ چارٹر کے مطابق تین سالہ رکنیت کی شرط ان ممالک پر نہیں ہوگی جو پہلے سال میں بورڈ کے لئے ایک ارب ڈالر سے زائد نقد رقم دیں گے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔ میجر جنرل جیسپر جیفرز عالمی استحکام فورس کے کمانڈر مقرر کیے گئے ہیں۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ کینیڈا امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ سے اصولی طور پر متفق ہے۔ غزہ امن بورڈ کی تفصیلات پر ابھی کام ہو رہا ہے۔ کینیڈا غزہ کی مشکلات کم کرنے کیلئے جو ہو سکا کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ کے منصوبے پر کئی ہفتوں پہلے تبادلہ خیال کیا تھا۔ غزہ امن بورڈ کے ڈھانچے، کام اور مالی وسائل اور دیگر تفصیلات ابھی طے نہیں ہوئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بین الاقوامی ایک ارب ڈالر امن بورڈ کے کوششوں میں کی رکنیت کے مطابق کمیٹی کے چارٹر کے رکنیت کی کے قیام بورڈ کی لئے ایک کے تحت غزہ کے غزہ کی کے لئے کے لیے امن کے اور اس
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔