تہران:

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی حملے کو ایرانی قوم کے ساتھ ‘مکمل اعلان جنگ’ تصور کیا جائے گا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کی گئی غیر انسانی پابندیاں اور طویل دشمنی ایرانی عوام کو درپیش معاشی مشکلات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے سپریم لیڈر کے خلاف کسی قسم کا حملہ پوری ایرانی قوم کے خلاف مکمل اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔

اگر سختی و تنگنایی در زندگی مردم عزیز #ایران وجود دارد، یکی از عوامل اصلی آن دشمنی دیرینه و تحریم‌های غیرانسانی دولت امریکا و هم‌پیمانان اوست.


تعرض به رهبری معظم کشورمان به‌منزله جنگ تمام عیار با ملت ایران است.

مزید پڑھیں

کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران کا سلامتی کونسل میں دو ٹوک پیغام

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے،کیا ہوگا؟

— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) January 18, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ روز بیان میں کہا تھا کہ ایران حالیہ ہنگاموں کے دوران غیر ملکی عناصر سے منسلک افراد کی جانب سے کی جانے والی ہلاکتوں اور تباہی کا اصل ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھتا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا اور ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اب ایران میں نئی قیادت تلاش کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ ماہ کے آخر میں تاجروں کی جانب سے شروع ہونے والا پرامن احتجاج ایک ہفتے جاری رہنے کے بعد پرتشدد ہو گیا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی مظاہرین کو اشتعال دلایا جا رہا تھا۔

ایران نے امریکا اور اسرائیل پر مظاہرین کی پشت پناہی الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ بیرونی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے فسادیوں نے ایرانی شہروں میں ہنگامہ آرائی کی، سکیورٹی فورسز اور شہریوں کو قتل کیا اور عوامی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سپریم لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران