سپریم لیڈر پر کسی قسم کا حملہ اعلان جنگ تصور ہوگا، ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
تہران:
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی حملے کو ایرانی قوم کے ساتھ ‘مکمل اعلان جنگ’ تصور کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کی گئی غیر انسانی پابندیاں اور طویل دشمنی ایرانی عوام کو درپیش معاشی مشکلات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے سپریم لیڈر کے خلاف کسی قسم کا حملہ پوری ایرانی قوم کے خلاف مکمل اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔
اگر سختی و تنگنایی در زندگی مردم عزیز #ایران وجود دارد، یکی از عوامل اصلی آن دشمنی دیرینه و تحریمهای غیرانسانی دولت امریکا و همپیمانان اوست.
تعرض به رهبری معظم کشورمان بهمنزله جنگ تمام عیار با ملت ایران است. مزید پڑھیں
کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران کا سلامتی کونسل میں دو ٹوک پیغام
ایران میں حکومت مخالف مظاہرے،کیا ہوگا؟
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) January 18, 2026ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ روز بیان میں کہا تھا کہ ایران حالیہ ہنگاموں کے دوران غیر ملکی عناصر سے منسلک افراد کی جانب سے کی جانے والی ہلاکتوں اور تباہی کا اصل ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھتا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا اور ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اب ایران میں نئی قیادت تلاش کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ ماہ کے آخر میں تاجروں کی جانب سے شروع ہونے والا پرامن احتجاج ایک ہفتے جاری رہنے کے بعد پرتشدد ہو گیا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی مظاہرین کو اشتعال دلایا جا رہا تھا۔
ایران نے امریکا اور اسرائیل پر مظاہرین کی پشت پناہی الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ بیرونی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے فسادیوں نے ایرانی شہروں میں ہنگامہ آرائی کی، سکیورٹی فورسز اور شہریوں کو قتل کیا اور عوامی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔