پی سی بی چیئر مین محسن نقوی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم کی تمام تیاریاں روک دیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئر مین محسن نقوی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم کی تمام تیاریاں روک دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹیم مینجمنٹ کو آئندہ کے لائحہ عمل سے بعد میں آگاہ کیا جائے گا، اور ٹیم مینجمنٹ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں عدم شرکت کی صورت میں متوازی پلان بھی طلب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کے فیصلے پر پاکستان نے مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔ پاکستان نے بنگلا دیش کے سکیورٹی تحفظات کو معقول اور درست قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر بنگلا دیش کے سکیورٹی مسائل حل نہ ہوئے تو پاکستان ٹیم کے ورلڈ کپ میں شرکت کے بارے میں دوبارہ غور کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔