اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 5.5 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی جبکہ گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔

زلزلے کا مرکز کشمیر کے شمال مغرب میں تھا۔

سوات: مینگورہ شہر اور گردونواح میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ۔

زلزلے کی شدت کے باعث شہری دفتر اور گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے، تاہم کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پی ایم ڈی اسلام آباد کے مطابق زلزلے کے جھٹکے صبح 11 بج کر 21 منٹ پر محسوس کیے گئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکّچے گّھڑے پاک فضائیہ کا دستہ سپیئرز آف وکٹری-2026 میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا کراچی آتشزدگی: فرانس سفارت خانہ کا متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نیویارک میں پاکستان کے سفیر کی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور فلپائن اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعاون کو وسعت دینے پر زور اسلام آباد: سری لنکا کے ہائی کمشنر کی ہولی سی کے ایپوسٹولک نونسیو سے ملاقات، سیاسی صورتحال اور سماجی ہم آہنگی پر تبادلۂ خیال سی ڈی اے کا الحمرا ایونیو ہاؤسنگ اسکیم سے کروڑوں روپے کی ریکوری کا فیصلہ، مکمل تفصیلات سب نیوز ہر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا