چاروں طرف سے پھنس گیا ہوں'، سانحہ گل پلازہ میں انتقال کرنیوالے شہری کا آخری مبینہ آڈیو پیغام سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگی آگ کے دوران انتقال کر جانے والے ایک شہری کا مبینہ آڈیو پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔گل پلازہ میں لگی آگ کو 33 گھنٹے بعد مکمل طورپربجھادیا گیا جب کہ سرچ آپریشن کے دوران مزید 8 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 14ہوگئی۔ گل پلازہ میں آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب لگی، گراؤنڈ فلور پر لگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچی، خوفناک آتشزدگی سے عمارت کے کئی حصے گر گئے۔اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک آڈیو سامنے آئی ہے جس سے متعلق بتایا جارہا ہےکہ یہ آڈیو گل پلازہ میں پھنسے ایک شہری کی ہے جو اپنے اہلخانہ کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے معافی مانگ رہا ہے۔شہری کا کہنا ہے کہ 'السلام علیکم، میں چاروں اطراف سے پھنس چکا ہوں، بہت خطرناک قسم کی آگ لگی ہے، میرا نکلنا بہت مشکل ہوگیا ہے، مجھ سے کوئی غلطی کوتاہی ہوگئی ہو تو مجھے معاف کردینا'۔شہری کی آڈیو میں کھانسنے اور دروازہ توڑو اور کھڑکی توڑو کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں۔تاہم آڈیو بھیجنے والے شخص کی فی الحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گل پلازہ میں
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔