تیراہ آپریشن صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر بدمعاشی سے شروع کیا گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2026 سب نیوز

پشاور:(آئی پی ایس)
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ تیراہ میں آپریشن صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے شروع کیا گیا۔

سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع خیبر کے مشران اور عمائدین کا جرگہ منعقد ہوا جس میں ضلع خیبر میں امن و امان کی صورتحال اور تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ قومی مشران نے امن کی بحالی اور تیراہ متاثرین کی باعزت نقل مکانی سے متعلق تجاویز اور آراء پیش کیں۔

وزیر اعلیٰ نے تیراہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تیراہ متاثرین کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی، تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کے لیے پوری قوم متحد ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتیں اور مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں، ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم امن پسند لوگ ہیں اور امن کی بحالی چاہتے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد اب کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہو سکے گا، بند کمروں کے فیصلے اگر تیراہ پر نافذ کیے گئے تو وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوں گے، اگر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جاتا تو قوم کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے سے کام ہوتا مگر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں، زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن شروع کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، اپنے گھر بار چھوڑے، ایک منظم مائنڈ سیٹ ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ پشتون بالخصوص قبائل مین اسٹریم سسٹم کا حصہ بنیں، وہ مائنڈ سیٹ جو 75 سال سے ہمارے خلاف بنا ہے، ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے ہی میرے خلاف گمراہ کن اور منفی پراپیگنڈا شروع کیا گیا، ایک منتخب وزیر اعلیٰ کے خلاف پراپیگنڈا کرنا افسوسناک طرز عمل ہے، عوامی حمایت سے اپنے خلاف ہر منفی بیانیے کو شکست دی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں نے اپنے عوام سے بندوق کے بجائے قلم دینے کا وعدہ کیا ہے، ملک کے دفاع کے لیے صف اول میں کھڑے ہوں گے، کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، میری قوم پر مشکل وقت آیا ہے تو میں چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑا ہوں، عمران خان نے عوام کو اتنا شعور دیا ہے کہ وہ حقیقت اور منافقت میں فرق بخوبی جانتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین، شینزو۔20 خلائی جہاز کی بحفاظت واپسی اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان میں 5.

8 شدت کا زلزلہ پاک فضائیہ کا دستہ سپیئرز آف وکٹری-2026 میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا کراچی آتشزدگی: فرانس سفارت خانہ کا متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نیویارک میں پاکستان کے سفیر کی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور فلپائن اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعاون کو وسعت دینے پر زور اسلام آباد: سری لنکا کے ہائی کمشنر کی ہولی سی کے ایپوسٹولک نونسیو سے ملاقات، سیاسی صورتحال اور سماجی ہم آہنگی پر تبادلۂ خیال TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر خیبر پختونخوا شروع کیا گیا وزیر اعلی نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی