پشاور:

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ تیراہ میں آپریشن صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے شروع کیا گیا۔

سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع خیبر کے مشران اور عمائدین کا جرگہ منعقد ہوا جس میں ضلع خیبر میں امن و امان کی صورتحال اور تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ قومی مشران نے امن کی بحالی اور تیراہ متاثرین کی باعزت نقل مکانی سے متعلق تجاویز اور آراء پیش کیں۔

وزیر اعلیٰ نے تیراہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تیراہ متاثرین کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی، تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کے لیے پوری قوم متحد ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتیں اور مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں، ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم امن پسند لوگ ہیں اور امن کی بحالی چاہتے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد اب کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہو سکے گا، بند کمروں کے فیصلے اگر تیراہ پر نافذ کیے گئے تو وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوں گے، اگر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جاتا تو قوم کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے سے کام ہوتا مگر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں، زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن شروع کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، اپنے گھر بار چھوڑے، ایک منظم مائنڈ سیٹ ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ پشتون بالخصوص قبائل مین اسٹریم سسٹم کا حصہ بنیں، وہ مائنڈ سیٹ جو 75 سال سے ہمارے خلاف بنا ہے، ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے ہی میرے خلاف گمراہ کن اور منفی پراپیگنڈا شروع کیا گیا، ایک منتخب وزیر اعلیٰ کے خلاف پراپیگنڈا کرنا افسوسناک طرز عمل ہے،  عوامی حمایت سے اپنے خلاف ہر منفی بیانیے کو شکست دی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں نے اپنے عوام سے بندوق کے بجائے قلم دینے کا وعدہ کیا ہے، ملک کے دفاع کے لیے صف اول میں کھڑے ہوں گے، کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، میری قوم پر مشکل وقت آیا ہے تو میں چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑا ہوں، عمران خان نے عوام کو اتنا شعور دیا ہے کہ وہ حقیقت اور منافقت میں فرق بخوبی جانتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صوبائی حکومت کو اعتماد میں خیبر پختونخوا شروع کیا گیا وزیر اعلی نے کہا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

ویب ڈیسک : آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے شہر میرپور اور اس کےگردونواح میں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسزبحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اس حوالے کچھ دیر قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اطلاعات ہیں کہ میرپور آزاد کشمیرمیں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطہ جلد بحال کردیا جائےگا۔

I’m grateful to the AJK PPP for their efforts & the election commission of AJK for their intervention. I’m hearing internet and digital connectivity will be restored in Mirpur AJK soon. I’m hopeful our requests for Muzaffrabad and other areas are also accepted as soon as…

— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ امید ہے مظفرآباد اور دیگرعلاقوں کے حوالے سے ہماری درخواستیں بھی جلد منظور کرلی جائیں گی۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

واضح  رہے میرپور آزادکشمیر میں گزشتہ 45 دن سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔ 

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع