کراچی: بچوں میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں سردی کے ساتھ سانس کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان پیڈیاٹرکس ایسوسی ایشن کے مطابق او پی ڈی میں آنے والے 60 فی صد سے زائد بچے سانس کے امراض میں مبتلا ہیں، جبکہ 20 سے 30 فی صد کو اسپتال میں داخل کرنا پڑ رہا ہے۔ بظاہر اسے موسم کی شدت کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ کراچی کی فضائی آلودگی اس بحران کی اصل وجہ ہے۔ دھواں، گرد، گاڑیوں کا زہریلا اخراج اور صنعتی آلودگی سرد ہوا کے ساتھ مل کر سانس کی نالیوں پر تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں۔ سردی صرف محرک ہے، بیماری کی جڑ آلودہ ماحول ہے۔ یہ صورتحال صرف صحت کا نہیں بلکہ انتظامی ناکامی کا بھی ثبوت ہے۔ جب تک شہر کی ہوا صاف نہیں ہوگی، بچوں کے پھیپھڑے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ حکومت کو ماحولیاتی آلودگی کے خلاف ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے، اور شہریوں کو بھی ذمے داری کا ثبوت دینا ہوگا۔ سردی عارضی ہے، مگر آلودگی ایک مستقل قاتل بن چکی ہے۔ اگر آج توجہ نہ دی گئی تو کل یہ بحران ناقابل ِ قابو ہو جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا لودگی
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔