سندھ پولیس کے 6 اہلکاروں کی لڑکی سے اجتماعی زیادتی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
سندھ کے شہر ٹُھل میں لڑکی آسیہ کھوسو سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں ایس ایس پی جیکب آباد کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں چھ پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد تمام اہلکاروں کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایس ایس پی کے مطابق متاثرہ لڑکی کی دادی کی درخواست پر آرڈی 44 تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا جبکہ انکوائری رپورٹ میں پولیس اہلکاروں کی اجتماعی زیادتی ثابت ہوئی۔
نامزد ملزمان میں اے ایس آئی محراب سندرانی، ہیڈ کانسٹیبل عبدالنبی سامت، اور چار سپاہی غلام یاسین جکھراڻي، خادم حسین جکھراڻي، میر حسن بمبل اور برکت جکھراڻي شامل ہیں۔
ایس ایس پی جیکب آباد کا کہنا ہے کہ تمام ملوث اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
دوسری جانب آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ محمد کلیم ملک نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔