جیکب آباد میں ایک خاتون نے ایس ایچ او، ہیڈ محرر سمیت 7 پولیس اہلکاروں پر اپنی پوتی سے زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

متاثرہ خاتون کے مطابق چند روز قبل پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، جس دوران انہیں اور ان کی 2 پوتیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ بعد ازاں علاقہ معززین کی مداخلت پر انہیں اور ایک پوتی کو رہا کر دیا گیا، تاہم پولیس اہلکار ایک پوتی کو اپنے پاس لے گئے اور اسے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: مبینہ زیادتی کے ملزم پولیس سپاہی کے حق میں فیصلہ آنے پر خاتون نے خود کو آگ لگا دی

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پی جیکب آباد سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیر داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ خاتون کے الزامات کی روشنی میں قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاتون اور اس کے اہل خانہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب پولیس جیکب آباد وزیر داخلہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب پولیس جیکب آباد وزیر داخلہ وزیر داخلہ جیکب آباد

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے