اسلام آباد:

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا ہے آج یا کل میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ کا نوٹیفکیشن بھی ہو جائے گا۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دونوں رہنماؤں کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کیا، اس لیے دونوں کا ہو جائے تو بہتر ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ جے یو آئی کہہ رہی ہے اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن نواز شریف کے کہنے پر ہوا؟

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن اسپیکر کی صوابدید ہے جو انہوں نے کر دیا، ہماری کوشش تھی اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن ہو جس نے بھی کروایا بہتر ہوا، میرے خیال میں نوٹیفکیشن اسپیکر قومی اسمبلی نے کیا اور ہم ان کے مشکور ہیں۔

مزید پڑھیں

محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نواز شریف نے بنوایا، جے یو آئی کا انکشاف

صحافی کی جانب سے سوال کیا کہ پی ٹی آئی ممبران جوڈیشل کمیشن کے گزشتہ اجلاسوں میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کی حیثیت تبدیل ہوئی اور 26ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات کی وجہ سے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پہلے بھی شامل نہیں ہونا چاہتے تھے لیکن چاہتے تھے جو بھی ججز آجائیں ہم اس طریقہ کار کا حصہ رہیں اور اپنا موقف پیش کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم اور نئی عدالت بنی تب سے اب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگی تو ان سے گفت شنید کر کے آگے بڑھیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جس طرح باقی کمیٹیوں کا بائیکاٹ کیا اسی طرح جوڈیشل کمیشن اجلاس میں بھی نہیں گئے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت کا حتمی فیصلہ کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اپوزیشن لیڈر جوڈیشل کمیشن کا نوٹیفکیشن

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر