اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر تقرری پی ٹی آئی کو سڑکوں سے پارلیمانی سیاست میں لانے کیلیے کی گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تقرری نے بظاہر پانچ ماہ سے جاری تعطل ختم کیا ہے، تاہم 8 فروری سے پی ٹی آئی کے مظاہروں سے قبل اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے نوٹیفکیشن کی ٹائمنگ اہم ہے۔
یہ بھی کہ سپیکر ایاز صادق نے اچانک تقرری کا نوٹیفکیش کیسے جاری کر دیا جبکہ اکتوبر میں انہوں نے پی ٹی آئی کی اس حوالے سے درخواست پر غور سے انکار کر دیا تھا۔
یہ تاثر عام ہے کہ اچکزئی کی بطور اپوزیشن تقرری سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایما پر ہوئی تاہم سپیکر ایاز صادق نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے زور دیا کہ اچکزئی کی تقرری کا فیصلہ انہوں نے کیا، نواز شریف نے انہیں فیصلوں کا مکمل اختیار دے رکھا ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نجی ٹی وی بتایا کہ پارٹی میں تمام فیصلے نواز شریف کی مشاورت سے ہوتے ہیں، حتمی اختیار نواز شریف کے پاس ہے۔
سیاسی ذرائع نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈروں کی تقرری کا فیصلہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں وسیع مفاہمت کا حصہ ہے۔
مسلم لیگ ن کے قریبی حلقوں کے مطابق اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری پی ٹی آئی کو سڑکوں سے پارلیمانی سیاست میں لانے کیلئے کی گئی۔
مزید پڑھیںمحمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نواز شریف نے بنوایا، جے یو آئی کا انکشاف
محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر
محمود خان اچکزئی کی بلامقابلہ اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار
سینیٹر پرویز رشید نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے پارلیمنٹ میں سیاسی تعطل ختم ہو جائیگا، پارلیمانی نظام کے آئینی و اخلاقی دونوں تقاضے پورے ہو گئے، بطور اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ میں واپسی محمود اچکزئی کی ذمہ داری ہو گی جواحتجاج، انتشار اور ڈی چوک آنے پر یقین رکھتی ہے۔
جمہوریت پسند اچکزئی پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے سیاسی کلچر کی اصلاح اور انہیں قائل کریں گے کہ سیاست اور جمہوریت سیاسی جماعتوں کے ذریعے کام کرتے ہیں،وہ احتجاجی سیاست سے دوری اور ایمپائر کی انگلی کا انتظار نہ کرنے کا درس بھی دیں گے۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخوند زادہ حسین یوسف زئی نے تسلیم کیا کہ اچکزئی کی تقرری پارلیمنٹ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی میں معاون ہو سکتی، تاہم پی ٹی آئی کو احتجاجی سیاست سے روکنے کیلئے یہ تقرری کافی نہیں، حکومت کو ماضی کی پی ٹی آئی کیخلاف کارروائیوں اور اس کے جمہوری حقوق سے انکار تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے نواز شریف اور اچکزئی میں براہ راست رابطے کے دعوے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے دونوں رہنما رابطے میں نہیں، البتہ رانا ثناء اللہ نے تقرری کے بعد مبادکباد دینے کیلئے محمود اچکزئی سے رابطہ اور بات چیت کی پیشکش دہرائی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں حتمی فیصلے کا اختیار عمران خان کے پاس ہے، ان کے علم میں لائے بغیر ہم کوئی رابطہ نہیں کر سکتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر بطور اپوزیشن قومی اسمبلی اچکزئی کی نواز شریف پی ٹی ا ئی کی تقرری تقرری کا انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز