Express News:
2026-07-24@02:34:15 GMT

بطورِ قائد ِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی سے توقعات

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

پشاور انجینئرنگ یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی باقاعدہ سند لے کر فارغ التحصیل ہونے والے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے محترم سیاستدان و رکن قومی اسمبلی جناب محمود خان اچکزئی بالآخر قومی اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف بن گئے ہیں ۔ یہ واقعہ 16جنوری 2026 کو ہُوا ہے ۔ نئے سال میں پی ٹی آئی کے لیے یہ پہلی کامیابی اور خوشخبری ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی ، جناب ایاز صادق ، نے قائد ِ حزبِ اختلاف کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے ۔ اگر یہ فیصلہ پہلے کر دیا جاتا تو زیادہ مستحسن ہوتا۔ اب دُودھ تو دے دیا گیا ہے ، مگر مینگنیاں ڈال کر۔ فیصلے میں تاخیر تو یقیناً ہُوئی ہے ، لیکن ہُوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی ہوگا۔

حیرانی کی بات ہے کہ پچھلے تقریباً پانچ ماہ سے قومی اسمبلی بغیر اپوزیشن لیڈر ہی کام کر رہی تھی۔ زیادہ حیرت انگیز بات مگر یہ بھی رہی کہ گذشتہ پانچ مہینوں کے دوران اپوزیشن بنچوں کی جانب سے کوئی بڑا طوفان یا احتجاج بھی دیکھنے میں نہ آیا۔ یقین ہے کہ اب اِس فیصلے اور اقدام سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں کو قرار اور سکون آ گیا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی صاحب سے قبل قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے جناب عمر ایوب خان اپوزیشن لیڈر تھے ۔مگر جب وہ اپنے بعض مبینہ سنگین اقدامات کے سبب رکن قومی اسمبلی نہ رہے تو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی نشست خالی ہو گئی تھی ۔ عمر ایوب خان کا ایم این اے اور اپوزیشن لیڈر کی سیٹیں کھو دینا پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کے لیے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں تھا۔عمر ایوب خان کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخاب ہُوا تو بھی پی ٹی آئی ہار گئی اور نون لیگ کامیاب ہو گئی تھی۔

عمر ایوب خان کو بھی قائدِ حزبِ اختلاف بانی پی ٹی آئی نے نامزد کیا تھا ، اور اب محمود خان اچکزئی کو بھی بانی پی ٹی آئی ہی نے نامزد کیا ہے ۔ عمر ایوب خان تو پی ٹی آئی کے تھے، مگر اچکزئی صاحب تو پی ٹی آئی سے باہر اپنی پارٹی ’’ پشتونخواہ ملّی عوامی پارٹی‘‘ (MKMAP) کے سربراہ ہیں ۔ بانی پی ٹی آئی نے اچکزئی صاحب کو نیشنل اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کیا تو پی ٹی آئی پورے اخلاص ، کمٹمنٹ اور قوت کے ساتھ اُن کی پشت پر کھڑی ہو گئی ۔ یہ منظر ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ پچھلے دو برسوں سے مسلسل پسِ دیوارِ زنداں رہنے کے باوجود پی ٹی آئی پر اب بھی بانی صاحب کی کسقدر گرفت ہے ۔

اچکزئی صاحب کے مقابل کوئی دوسرا اُمیدوار بھی کھڑا نظر نہیں آیا۔ کیا اِسے بھی جمہوری عمل قرار دیا جا سکتا ہے ؟ اِس دوران مگر یہ سوال بھی بار بار اُبھر کر سامنے آتا رہا ہے کہ آیا بانی پی ٹی آئی کو اپنی پارٹی کے اندر کوئی ایک شخص بھی ایسا دکھائی نہ دیا جو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی جانب سے اپوزیشن لیڈر بن سکتا؟ کیا بانی صاحب کا یہ فیصلہ اور سوچ اپنی پوری پارٹی کے ارکانِ قومی اسمبلی پر عدم اعتماد نہیں ہے؟ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بانی کے فیصلے کے باوصف پی ٹی آئی میں کوئی ناراضی، رنجیدگی اور کبیدہ خاطری نظر نہیں آرہی ۔اِسے پی ٹی آئی کی یکجہتی کہنا چاہیے ۔ جناب محمود خان اچکزئی کے قائدِ حزبِ اختلاف بن جانے پر مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ مبارک باد کسے دی جائے ؟ پی ٹی آئی کو یا پشتونخوا ملّی عوامی پارٹی کو یا سُنی اتحاد کونسل کو یا تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کو ؟؟ اچکزئی صاحب ’’تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان‘‘ کے بھی تو رُوحِ رواں ہیں ۔

جناب محمود خان اچکزئی سے بجا طور پر توقعات وابستہ کی گئی ہیں کہ وہ قومی اسمبلی میں بطورِ قائدِ حزبِ اختلاف یادگار اور شاندار کردار ادا کرینگے ۔ وہ خود پاکستان کے بزرگ ، جہاندیدہ اور سرد گرم چشیدہ سیاستدان ہیں ۔ اُن کی عمر77برس ہے ۔ اُنھوں نے پاکستانی سیاست اور اقتدار کے کئی موسم دیکھ رکھے ہیں ۔ وہ ایک بار صوبائی اسمبلی اور چار بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں ۔

اُنھوں نے( مارچ2024ء میں) صدارتی انتخاب بھی لڑا ، مگر وہ جناب آصف علی زرداری کے مقابل شکست کھا گئے تھے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ اُنہیں صدارتی انتخاب کے دوران تینوں صوبوں سے تو ووٹ ملے ، مگر اُنہیں اپنے صوبے سے ایک بھی ووٹ نہ ملا ۔ بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اچکزئی صاحب کو صدارتی انتخاب کے لیے بلوچستان میں اپنا کوئی پولنگ ایجنٹ بھی نہ ملا تھا ۔ جناب محمود خان اچکزئی بلوچستان کے ممتاز ترین اور قوم پرست سیاستدان ، عبدالصمد خان اچکزئی مرحوم، کے صاحبزادے ہیں۔عبدالصمد اچکزئی مرحوم بلوچستان میں انگریز سامراج کے خلاف جنگِ آزادی بھی لڑتے رہے اور تقسیمِ برِ صغیر کے مخالفین میں سے ایک تھے۔ صمد خان اچکزئی مرحوم شاعر بھی تھے ، سوانح حیات بھی لکھی ، ادیب بھی تھے اور مترجم بھی۔

محمود خان اچکزئی صاحب کے ایک بھائی ( محمد خان اچکزئی) بلوچستان کے گورنر بھی رہے ۔ اُنھوں نے اپنی گورنری کے دوران تین وزرائے اعظم ( نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور بانی پی ٹی آئی) کے ساتھ کام کیا اور اپنے عہدے کی میعاد پوری کرکے ہی فارغ ہُوئے تھے ۔ محمود اچکزئی کے دوسرے بھائی (حامد خان اچکزئی) پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں ۔ مالٹا اور برطانیہ میں ڈاکٹری کرتے رہے ہیں ۔ اب سیاست کرتے ہیں اور اپنے بھائی کی پارٹی کا دست و بازُو ہیں ۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نئے قائدِ حزبِ اختلاف اپنے سیاسی و خاندانی پسِ منظر کے لحاظ سے آئیڈیل شخصیت ہیں ۔

اِسی لیے اُن سے توقعات بھی زیادہ بڑی وابستہ کی گئی ہیں ۔ اُن کی نامزد کنندہ شخصیت( بانی پی ٹی آئی) نے مگر مبینہ طور پر اُنہیں اِس عہدے کے لیے اس لیے چُنا ہے تاکہ وہ اُنہیں جیل کی تنہائیوں سے آزاد کروا سکیں۔ یہ کام مگر محمود خان اچکزئی کے لیے خاصا مشکل، صبر آزما اور مہم جُویانہ ہے ۔ پی ٹی آئی نے شائد اُنہیں اِس صبر آزما میدان میں اس لیے اُتارا ہے کہ اچکزئی صاحب مہمات سر کرنے کے خُوگر ہیں ۔

وہ قیدو بند سے نہیں ڈرتے کہ اُنھوں نے اپنے والدِ گرامی کی طرح کئی بار جیل یاترا کی ہے ۔ وہ دہشت گردوں کے بموں سے بھی نہیں ڈرتے کہ وہ اِن مقامات سے بھی گزر چکے ہیں ۔ خاص طور پر 1973میں جب اُن کے والدِ گرامی کو اُن کے گھر پر بم مار کر شہید کر دیا گیا تھا ۔ تب سے اُنہیں بموں کا ڈر بھی نہیں رہا ۔ یاد رہے کہ عبدالصمد خان اچکزئی کی شہادت کے وقت وزیر اعظم، زیڈ اے بھٹو، نے بلوچستان پر گورنر راج نافذ کررکھا تھا۔

لگتا یہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے بہ امرِ مجبوری ہی محمود خان اچکزئی صاحب کو آگے بڑھایا ہے ۔یہ وہی محمود اچکزئی ہیں جن کی بانی صاحب جلسے جلسوں میں نقلیں بھی اُتارا کرتے تھے اور متعدد جلسوں میں اُنہیں نامناسب الفاظ سے بھی پکارتے رہے ہیں ۔ مگر شاباش ہے محمود خان اچکزئی کو جنھوں نے ایک بار بھی بانی صاحب کے توہین آمیز انداز کا توہین سے جواب نہیں دیا۔ یہ اُن کے بڑے پَن کا ثبوت ہے۔ قومی اسمبلی میں نئے نئے منتخب ہونے والے جناب محمود خان اچکزئی کی عملی سیاست و سوچ میں یہ ’’نقص‘‘ یا ’’خامی‘‘ کہی جاتی ہے کہ وہ اپنی قوم پرستانہ سیاست سے مغلوب ہو کر مرکزِ گریز خیالات کے حامی ہیں ۔

افغانستان کی جانب اُن کا جھکاؤ ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ افغانستان بارے آج کل بانی صاحب اور اچکزئی صاحب کے خیالات یکساں ہیں ۔ شائد اِسی پس منظر میں وفاقی وزیر اطلاعات ، جناب عطاء اللہ تارڑ، نے 16جنوری2026کو اپنے ایک انٹرویو میں محمود خان اچکزئی پر سخت طنز بھی کیا ۔ وزیر موصوف کاطنز غیر مناسب یا سخت تو کہا جا سکتا ہے ، مگر بنیادی حقائق سے متصادم نہیں ۔ بہرحال قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کا تقرر تو ہو گیا ، اور اب سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کا تقرر باقی رہ گیا ہے ۔ بانی صاحب نے اِس کے لیے بھی سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کو نامزد کررکھا ہے ۔ شنید ہے آج ( بتاریخ 19جنوری بروز سوموار) علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کا سینیٹ میں بطورِ قائدِ حزبِ اختلاف کا نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جناب محمود خان اچکزئی اب محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں بانی پی ٹی ا ئی اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان پی ٹی ا ئی کے پی ٹی ا ئی نے اچکزئی صاحب اختلاف کا ا نھوں نے صاحب کے ہے کہ ا سے بھی نہیں ا کے لیے ا نہیں

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری