Jasarat News:
2026-07-24@04:03:47 GMT

قائد حزب اختلاف کا تقرر؛ جمہوریت کی بدقسمتی!

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نہایت بدترین مثال سامنے آئی ہے جہاں قومی اسمبلی میں صرف ایک سیٹ والی پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سونپ دیا گیا۔ یہ وہ صاحب ہیں جسے عمران خان اور ان کی پارٹی والے کبھی مذاق کا نشانہ بناتے تھے، خود عمران خان ان کی نقل اُتارتے اور سر پر چادر لپیٹنے کا انداز دہراتے۔ آج تحریک انصاف کے پاس قومی اسمبلی میں کوئی ایسا رکن موجود نہیں جس پر عمران خان کو مکمل اعتماد ہو کہ وہ اسے اپوزیشن لیڈر نامزد کر سکیں۔ اسد قیصر جیسے سینئر رہنما، جو سابق اسپیکر رہ چکے ہیں، بھی اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ یہ صورتحال پاکستانی جمہوریت کی بدقسمتی کی زندہ تصویر ہے۔ جہاں اعداد وشمار کے ہیر پھیر اور سیاسی گورکھ دھندوں سے ایک ایسا شخص قومی سطح کا قائد بن جاتا ہے جسے اس کے اپنے حلقے کے لوگوں نے اکثریت سے مسترد کر دیا۔ یہ واقعہ محض ایک اتفاقیہ پیش رفت نہیں بلکہ ہمارے نظامِ انتخابات اور جمہوری عمل کی بنیادی خامیوں کا عکاس ہے۔ قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 266 (کوئٹہ) جہاں سے محمود خان اچکزئی نے 67,028 ووٹ حاصل کیے، اس کی کل ووٹنگ کا جائزہ لیں تو حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ ان کے مخالف امیدواروں، جن میں جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) اور عوامی نیشنل پارٹی شامل تھے، نے مجموعی طور پر 97074 ہزار سے زائد ووٹ لیے۔ یعنی حلقے کی اکثریت نے واضح طور پر اچکزئی کو مسترد کر دیا۔ اس حلقے میں 3 لاکھ 57 ہزار 834 رجسٹرڈ ووٹر ہیں الیکشن کمیشن کے رزلٹ کے مطابق رجسٹر ووٹوں کے کل ووٹوں کا 11.

62 فی صد ووٹ محمود خان اچکزئی نے حاصل کیے جبکہ کل پول ووٹوں کا بھی محمود خان اچکزئی نے 33.34 فی صد ووٹ حاصل کیا جبکہ اب امتحان میں بھی 45 فی صد کو کامیاب قرار دیا جاتا ہے لیکن الیکشن میں 11 فی صد ووٹ لینے والا بھی کامیاب قرار پاتا ہے جبکہ اسے حلقے کے عوام کی اکثریت کا اعتماد بالکل بھی حاصل نہیں ہوتا ٹیکنیکلی طور پر این اے 266 کے عوام نے محمود خان اچکزئی کو مسترد کیا ہے۔ یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی حلقے سے پی ٹی آئی کو محض 8176 ووٹ ملے، جو اس پارٹی کی مقبولیت کی انتہائی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ پھر بھی، سیاسی جوڑ توڑ اور اتحادوں کی بدولت اچکزئی نہ صرف قومی اسمبلی میں بیٹھے بلکہ اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ وہ خود کو عوامی نمائندہ کہہ رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس عوام کی اکثریت کا مینڈیٹ نہیں۔ یہ جمہوریت کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟

ہمارے ہاں ووٹوں کو گنا جاتا ہے مگر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ حلقے کے مجموعی رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد کا 50 فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا ہی شخص حقیقی عوامی نمائندہ بننے کا مستحق ہے۔ موجودہ نظامِ انتخابات فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ (FPTP) پر مبنی ہے جہاں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا جیت جاتا ہے، چاہے وہ اکثریت کا اعتماد حاصل نہ کرے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کی اکثریت کے خلاف ووٹ لے کر بھی امیدوار اسمبلیوں میں جا بیٹھتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے رہتے ہیں کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں جبکہ یہ بالکل جھوٹ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، این اے 266 میں کل پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی شرکت کا تناسب دیکھیں تو اچکزئی کے ووٹ حلقے کی کل آبادی کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ہزاروں میں ہے مگر جیتنے والے کو مطلق اکثریت کی ضرورت نہیں۔ یہ نظام برطانوی نوآبادیاتی دور کا ورثہ ہے جو جدید جمہوریتوں میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں پروپورشنل ریپریزنٹیشن (PR) جسے اردو میں متناسب نمائندگی کہتے ہیں اسے اپنائے یا ٹو راؤنڈ سسٹم اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خامی صرف ایک حلقے تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں متعدد حلقوں میں ایسے ہی نتائج سامنے آئے جہاں جیتنے والوں کو 30-40 فی صد ووٹ بھی نہ ملے ہوں۔ دھاندلی کے الزامات الگ ہیں۔ مثال کے طور پر، کئی حلقوں میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے الزام لگایا کہ انہوں نے اکثریت کے ووٹ لیے مگر فارم 45 اور 47 کی مبینہ ہیرا پھیری کی وجہ سے رسمی نتائج تبدیل ہو گئے۔ یہ تو الزامات ہی ہیں۔

محمود اچکزئی کا کیس زیادہ شرمناک ہے کیونکہ ان کی جیت مشکوک ہے اور اس کی بنیاد کمزور ہے۔ ان کے حلقے میں جے یو آئی ایف اور اے این پی کے ووٹ مل کر اچکزئی سے دوگنا سے زائد تھے، پھر بھی وہ نمائندہ بن گئے۔ پی ٹی آئی کی کمزوری نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ تحریک انصاف، جو 2018 میں طوفان کی طرح اٹھی تھی، آج اپنے ارکان پر اعتماد نہ کر سکنے کی وجہ سے ایک واحد رکن والی پارٹی کے سپرد ہو گئی۔ عمران خان کی جیل میں موجودگی اور پارٹی کے اندرونی انتشار نے اسے مزید کمزور کر دیا۔ پاکستانی جمہوریت کی یہ بدقسمتی نئی نہیں۔ 1970 کے انتخابات میں بھی اکثریتی حکومت بننے کے باوجود یحییٰ خان نے اسے تسلیم نہ کیا۔ 1988 میں پی پی پی کی حکومت بھی متنازع تھی 1990 میں جہاں مسلم لیگ (ن) کو واضح اکثریت نہ ملی۔ 2018 میں پی ٹی آئی نے 116 نشستیں حاصل کیں مگر کوئی واضح مینڈیٹ نہ تھا۔ آج کل حکومت بھی اتحادوں پر قائم ہے جہاں پی پی پی، پی ایم ایل این اور دیگر چھوٹی پارٹیاں مل کر حکمرانی کر رہی ہیں۔ اس سب میں عوام کی آواز دب جاتی ہے۔ محمود اچکزئی جیسے رہنما، جو بلوچستان کی مقامی سیاست میں پختون قوم پرست ہیں، قومی سطح پر اپوزیشن لیڈر بن کر پورے ملک کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کی پارٹی کا ایجنڈا صوبائی ہے مگر اب وہ قومی اسمبلی کی بحث میں حصہ لیں گے اور بلز پر رائے دیں گے۔ کیا یہ عوام کی حقیقی نمائندگی ہے؟ صوبائی سطح پر بھی یہی صورتحال ہے۔ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی مگر اب اپوزیشن کمزور ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں پختون خوا ملی عوامی پارٹی کی ایک سیٹ ہے مگر قومی سطح پر اسے بڑا مقام مل گیا۔ یہ سیاسی گورکھ دھندا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 106 اور 48 کے تحت اپوزیشن لیڈر کا تقرر قائد ِ ایوان کی منظوری سے ہوتا ہے مگر پی ٹی آئی کی عدم موجودگی نے اسے آسان بنا دیا۔ اب اچکزئی سرکاری پالیسیوں پر تنقید کریں گے، بجٹ پر بحث کریں گے اور قومی مفادات کی بات کریں گے حالانکہ ان کا حلقہ انہیں مسترد کر چکا۔ پی ٹی آئی کے 8176 ووٹ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں ان کی کوئی جڑ نہیں۔

ہمارا انتخابی نظام عوام کی اکثریت کی رائے کو نظر انداز کرتا ہے۔ جدید جمہوریتوں میں جرمنی، سویڈن اور آسٹریلیا جیسے ممالک متناسب نمائندگی استعمال کرتے ہیں جہاں پارٹی کو ووٹوں کا فی صد نشستوں کا فی صد ملتا ہے۔ فرانس میں ٹو راؤنڈ سسٹم ہے جہاں پہلے راؤنڈ میں 50 فی صد نہ ملے تو دوسرے راؤنڈ میں سب سے آگے والا جیتتا ہے۔ پاکستان میں ریفرنڈم یا ٹرن آؤٹ کا تناسب بھی نہیں دیکھا جاتا۔ این اے 266 میں ووٹنگ تناسب کم تھا مگر جیتنے والا ہی نمائندہ بن گیا۔ حلقے کے کل رجسٹرڈ ووٹرز کا 50 فی صد ووٹ لینے والا ہی مستحق ہونا چاہیے، ورنہ دوسرے راؤنڈ یا اتحادی حکومت۔ یہ تبدیلی آئین میں ترمیم سے ممکن ہے مگر سیاسی اشرافیہ اسے نہیں چاہتی کیونکہ یہ ان کے مفادات کو چیلنج کرے گی۔ یہ صورتحال سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر اچکزئی کو سرکاری ملاقاتوں، سفری مراعات اور سرکاری رہائش ملے گی۔ وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی بھی کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ارکان، جو جیل میں ہیں یا چھپے ہوئے، ان کی آواز بن جائیں گے مگر کیا اچکزئی پی ٹی آئی کا ایجنڈا آگے بڑھا سکیں گے؟ ان کی پرانی دشمنی یاد کریں جب عمران خان ان کی نقل اُتارتے تھے۔ بلوچستان کی مقامی مسائل، جیسے گزشتہ دہائیوں میں بلوچ بغاوت، پختون خوا ملی عوامی پارٹی کا فوکس ہیں مگر قومی سطح پر انصاف اور احتساب کا پی ٹی آئی ایجنڈا ان سے میل نہیں کھاتا۔ یہ اتحاد وقتی ہے جو جلد ٹوٹ سکتا ہے۔ جمہوریت کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ووٹروں کی اکثریت خاموش رہ جاتی ہے۔ صرف 30-40 فی صد شرکت میں بھی فیصلے ہو جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ 2024 میں قومی سطح پر ووٹنگ تناسب 48 فی صد رہا مگر حلقے کی سطح پر یہ اور کم تھا۔ محمود اچکزئی کو 67 ہزار ووٹ ملے مگر حلقے میں لاکھوں ووٹرز نے ووٹ نہیں دیا یا ان کے مخالفوں کو دیا۔ پھر بھی وہ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یہ ’ون مین ون ووٹ‘ کا اصول توڑتا ہے اور ’ون مین منی ووٹس‘ بن جاتا ہے جہاں اقلیت حکمرانی کرتی ہے۔ اس المیے کا حل انتخابی اصلاحات میں ہے۔ پہلا، مطلق اکثریت کا اصول متعارف کروائیں۔ دوسرا، متناسب نمائندگی کا طریقہ اپنائیں جہاں قومی سطح پر ووٹوں کا فی صد نشستیں دیں۔ تیسرا، آزاد امیدواروں کو باقاعدہ پارٹی کا درجہ دیں۔ چوتھا، ووٹنگ کو لازمی بنائیں جیسے آسٹریلیا میں۔ پانچواں، فارم 45-47 کی شفافیت یقینی بنائیں۔ یہ تبدیلیاں پارلیمنٹ سے منظور ہوں تو پاکستانی جمہوریت مضبوط ہو گی۔ اب وقت ہے کہ سیاسی جماعتیں عوام کی اکثریت کی نمائندگی کو ترجیح دیں نہ کہ ذاتی مفادات کو۔ محمود اچکزئی کا تقرر ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی کمزوری نے پورے نظام کو ایکسپوز کر دیا۔ اگر پی ٹی آئی اپنے ارکان پر اعتماد نہ کر سکے تو وہ اپنی جمہوریت کا کیا جواب دیں گے؟ یہ بدقسمتی ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے ورنہ پاکستانی جمہوریت مزید کمزور ہوتی جائے گی۔ عوام کو جاگنا ہوگا اور ایسے نظام کا مطالبہ کرنا ہوگا جہاں ووٹوں کی اکثریت ہی آواز بنے، اقلیت نہیں۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جمہوریت کی بدقسمتی پاکستانی جمہوریت محمود خان اچکزئی عوام کی اکثریت محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر پی ٹی ا ئی کی قومی اسمبلی اسمبلی میں اچکزئی کو اکثریت کا عوام کی ا فی صد ووٹ کرتے ہیں ووٹوں کا حلقے کے جاتا ہے ہے جہاں کر دیا میں پی راو نڈ ہے مگر

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف