Jasarat News:
2026-07-24@05:30:41 GMT

قائد حزب اختلاف کا تقرر؛ جمہوریت کی بدقسمتی!

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نہایت بدترین مثال سامنے آئی ہے جہاں قومی اسمبلی میں صرف ایک سیٹ والی پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سونپ دیا گیا۔ یہ وہ صاحب ہیں جسے عمران خان اور ان کی پارٹی والے کبھی مذاق کا نشانہ بناتے تھے، خود عمران خان ان کی نقل اُتارتے اور سر پر چادر لپیٹنے کا انداز دہراتے۔ آج تحریک انصاف کے پاس قومی اسمبلی میں کوئی ایسا رکن موجود نہیں جس پر عمران خان کو مکمل اعتماد ہو کہ وہ اسے اپوزیشن لیڈر نامزد کر سکیں۔ اسد قیصر جیسے سینئر رہنما، جو سابق اسپیکر رہ چکے ہیں، بھی اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ یہ صورتحال پاکستانی جمہوریت کی بدقسمتی کی زندہ تصویر ہے۔ جہاں اعداد وشمار کے ہیر پھیر اور سیاسی گورکھ دھندوں سے ایک ایسا شخص قومی سطح کا قائد بن جاتا ہے جسے اس کے اپنے حلقے کے لوگوں نے اکثریت سے مسترد کر دیا۔ یہ واقعہ محض ایک اتفاقیہ پیش رفت نہیں بلکہ ہمارے نظامِ انتخابات اور جمہوری عمل کی بنیادی خامیوں کا عکاس ہے۔ قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 266 (کوئٹہ) جہاں سے محمود خان اچکزئی نے 67,028 ووٹ حاصل کیے، اس کی کل ووٹنگ کا جائزہ لیں تو حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ ان کے مخالف امیدواروں، جن میں جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) اور عوامی نیشنل پارٹی شامل تھے، نے مجموعی طور پر 97074 ہزار سے زائد ووٹ لیے۔ یعنی حلقے کی اکثریت نے واضح طور پر اچکزئی کو مسترد کر دیا۔ اس حلقے میں 3 لاکھ 57 ہزار 834 رجسٹرڈ ووٹر ہیں الیکشن کمیشن کے رزلٹ کے مطابق رجسٹر ووٹوں کے کل ووٹوں کا 11.

62 فی صد ووٹ محمود خان اچکزئی نے حاصل کیے جبکہ کل پول ووٹوں کا بھی محمود خان اچکزئی نے 33.34 فی صد ووٹ حاصل کیا جبکہ اب امتحان میں بھی 45 فی صد کو کامیاب قرار دیا جاتا ہے لیکن الیکشن میں 11 فی صد ووٹ لینے والا بھی کامیاب قرار پاتا ہے جبکہ اسے حلقے کے عوام کی اکثریت کا اعتماد بالکل بھی حاصل نہیں ہوتا ٹیکنیکلی طور پر این اے 266 کے عوام نے محمود خان اچکزئی کو مسترد کیا ہے۔ یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی حلقے سے پی ٹی آئی کو محض 8176 ووٹ ملے، جو اس پارٹی کی مقبولیت کی انتہائی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ پھر بھی، سیاسی جوڑ توڑ اور اتحادوں کی بدولت اچکزئی نہ صرف قومی اسمبلی میں بیٹھے بلکہ اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ وہ خود کو عوامی نمائندہ کہہ رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس عوام کی اکثریت کا مینڈیٹ نہیں۔ یہ جمہوریت کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟

ہمارے ہاں ووٹوں کو گنا جاتا ہے مگر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ حلقے کے مجموعی رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد کا 50 فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا ہی شخص حقیقی عوامی نمائندہ بننے کا مستحق ہے۔ موجودہ نظامِ انتخابات فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ (FPTP) پر مبنی ہے جہاں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا جیت جاتا ہے، چاہے وہ اکثریت کا اعتماد حاصل نہ کرے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کی اکثریت کے خلاف ووٹ لے کر بھی امیدوار اسمبلیوں میں جا بیٹھتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے رہتے ہیں کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں جبکہ یہ بالکل جھوٹ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، این اے 266 میں کل پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی شرکت کا تناسب دیکھیں تو اچکزئی کے ووٹ حلقے کی کل آبادی کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ہزاروں میں ہے مگر جیتنے والے کو مطلق اکثریت کی ضرورت نہیں۔ یہ نظام برطانوی نوآبادیاتی دور کا ورثہ ہے جو جدید جمہوریتوں میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں پروپورشنل ریپریزنٹیشن (PR) جسے اردو میں متناسب نمائندگی کہتے ہیں اسے اپنائے یا ٹو راؤنڈ سسٹم اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خامی صرف ایک حلقے تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں متعدد حلقوں میں ایسے ہی نتائج سامنے آئے جہاں جیتنے والوں کو 30-40 فی صد ووٹ بھی نہ ملے ہوں۔ دھاندلی کے الزامات الگ ہیں۔ مثال کے طور پر، کئی حلقوں میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے الزام لگایا کہ انہوں نے اکثریت کے ووٹ لیے مگر فارم 45 اور 47 کی مبینہ ہیرا پھیری کی وجہ سے رسمی نتائج تبدیل ہو گئے۔ یہ تو الزامات ہی ہیں۔

محمود اچکزئی کا کیس زیادہ شرمناک ہے کیونکہ ان کی جیت مشکوک ہے اور اس کی بنیاد کمزور ہے۔ ان کے حلقے میں جے یو آئی ایف اور اے این پی کے ووٹ مل کر اچکزئی سے دوگنا سے زائد تھے، پھر بھی وہ نمائندہ بن گئے۔ پی ٹی آئی کی کمزوری نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ تحریک انصاف، جو 2018 میں طوفان کی طرح اٹھی تھی، آج اپنے ارکان پر اعتماد نہ کر سکنے کی وجہ سے ایک واحد رکن والی پارٹی کے سپرد ہو گئی۔ عمران خان کی جیل میں موجودگی اور پارٹی کے اندرونی انتشار نے اسے مزید کمزور کر دیا۔ پاکستانی جمہوریت کی یہ بدقسمتی نئی نہیں۔ 1970 کے انتخابات میں بھی اکثریتی حکومت بننے کے باوجود یحییٰ خان نے اسے تسلیم نہ کیا۔ 1988 میں پی پی پی کی حکومت بھی متنازع تھی 1990 میں جہاں مسلم لیگ (ن) کو واضح اکثریت نہ ملی۔ 2018 میں پی ٹی آئی نے 116 نشستیں حاصل کیں مگر کوئی واضح مینڈیٹ نہ تھا۔ آج کل حکومت بھی اتحادوں پر قائم ہے جہاں پی پی پی، پی ایم ایل این اور دیگر چھوٹی پارٹیاں مل کر حکمرانی کر رہی ہیں۔ اس سب میں عوام کی آواز دب جاتی ہے۔ محمود اچکزئی جیسے رہنما، جو بلوچستان کی مقامی سیاست میں پختون قوم پرست ہیں، قومی سطح پر اپوزیشن لیڈر بن کر پورے ملک کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کی پارٹی کا ایجنڈا صوبائی ہے مگر اب وہ قومی اسمبلی کی بحث میں حصہ لیں گے اور بلز پر رائے دیں گے۔ کیا یہ عوام کی حقیقی نمائندگی ہے؟ صوبائی سطح پر بھی یہی صورتحال ہے۔ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی مگر اب اپوزیشن کمزور ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں پختون خوا ملی عوامی پارٹی کی ایک سیٹ ہے مگر قومی سطح پر اسے بڑا مقام مل گیا۔ یہ سیاسی گورکھ دھندا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 106 اور 48 کے تحت اپوزیشن لیڈر کا تقرر قائد ِ ایوان کی منظوری سے ہوتا ہے مگر پی ٹی آئی کی عدم موجودگی نے اسے آسان بنا دیا۔ اب اچکزئی سرکاری پالیسیوں پر تنقید کریں گے، بجٹ پر بحث کریں گے اور قومی مفادات کی بات کریں گے حالانکہ ان کا حلقہ انہیں مسترد کر چکا۔ پی ٹی آئی کے 8176 ووٹ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں ان کی کوئی جڑ نہیں۔

ہمارا انتخابی نظام عوام کی اکثریت کی رائے کو نظر انداز کرتا ہے۔ جدید جمہوریتوں میں جرمنی، سویڈن اور آسٹریلیا جیسے ممالک متناسب نمائندگی استعمال کرتے ہیں جہاں پارٹی کو ووٹوں کا فی صد نشستوں کا فی صد ملتا ہے۔ فرانس میں ٹو راؤنڈ سسٹم ہے جہاں پہلے راؤنڈ میں 50 فی صد نہ ملے تو دوسرے راؤنڈ میں سب سے آگے والا جیتتا ہے۔ پاکستان میں ریفرنڈم یا ٹرن آؤٹ کا تناسب بھی نہیں دیکھا جاتا۔ این اے 266 میں ووٹنگ تناسب کم تھا مگر جیتنے والا ہی نمائندہ بن گیا۔ حلقے کے کل رجسٹرڈ ووٹرز کا 50 فی صد ووٹ لینے والا ہی مستحق ہونا چاہیے، ورنہ دوسرے راؤنڈ یا اتحادی حکومت۔ یہ تبدیلی آئین میں ترمیم سے ممکن ہے مگر سیاسی اشرافیہ اسے نہیں چاہتی کیونکہ یہ ان کے مفادات کو چیلنج کرے گی۔ یہ صورتحال سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر اچکزئی کو سرکاری ملاقاتوں، سفری مراعات اور سرکاری رہائش ملے گی۔ وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی بھی کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ارکان، جو جیل میں ہیں یا چھپے ہوئے، ان کی آواز بن جائیں گے مگر کیا اچکزئی پی ٹی آئی کا ایجنڈا آگے بڑھا سکیں گے؟ ان کی پرانی دشمنی یاد کریں جب عمران خان ان کی نقل اُتارتے تھے۔ بلوچستان کی مقامی مسائل، جیسے گزشتہ دہائیوں میں بلوچ بغاوت، پختون خوا ملی عوامی پارٹی کا فوکس ہیں مگر قومی سطح پر انصاف اور احتساب کا پی ٹی آئی ایجنڈا ان سے میل نہیں کھاتا۔ یہ اتحاد وقتی ہے جو جلد ٹوٹ سکتا ہے۔ جمہوریت کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ووٹروں کی اکثریت خاموش رہ جاتی ہے۔ صرف 30-40 فی صد شرکت میں بھی فیصلے ہو جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ 2024 میں قومی سطح پر ووٹنگ تناسب 48 فی صد رہا مگر حلقے کی سطح پر یہ اور کم تھا۔ محمود اچکزئی کو 67 ہزار ووٹ ملے مگر حلقے میں لاکھوں ووٹرز نے ووٹ نہیں دیا یا ان کے مخالفوں کو دیا۔ پھر بھی وہ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یہ ’ون مین ون ووٹ‘ کا اصول توڑتا ہے اور ’ون مین منی ووٹس‘ بن جاتا ہے جہاں اقلیت حکمرانی کرتی ہے۔ اس المیے کا حل انتخابی اصلاحات میں ہے۔ پہلا، مطلق اکثریت کا اصول متعارف کروائیں۔ دوسرا، متناسب نمائندگی کا طریقہ اپنائیں جہاں قومی سطح پر ووٹوں کا فی صد نشستیں دیں۔ تیسرا، آزاد امیدواروں کو باقاعدہ پارٹی کا درجہ دیں۔ چوتھا، ووٹنگ کو لازمی بنائیں جیسے آسٹریلیا میں۔ پانچواں، فارم 45-47 کی شفافیت یقینی بنائیں۔ یہ تبدیلیاں پارلیمنٹ سے منظور ہوں تو پاکستانی جمہوریت مضبوط ہو گی۔ اب وقت ہے کہ سیاسی جماعتیں عوام کی اکثریت کی نمائندگی کو ترجیح دیں نہ کہ ذاتی مفادات کو۔ محمود اچکزئی کا تقرر ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی کمزوری نے پورے نظام کو ایکسپوز کر دیا۔ اگر پی ٹی آئی اپنے ارکان پر اعتماد نہ کر سکے تو وہ اپنی جمہوریت کا کیا جواب دیں گے؟ یہ بدقسمتی ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے ورنہ پاکستانی جمہوریت مزید کمزور ہوتی جائے گی۔ عوام کو جاگنا ہوگا اور ایسے نظام کا مطالبہ کرنا ہوگا جہاں ووٹوں کی اکثریت ہی آواز بنے، اقلیت نہیں۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جمہوریت کی بدقسمتی پاکستانی جمہوریت محمود خان اچکزئی عوام کی اکثریت محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر پی ٹی ا ئی کی قومی اسمبلی اسمبلی میں اچکزئی کو اکثریت کا عوام کی ا فی صد ووٹ کرتے ہیں ووٹوں کا حلقے کے جاتا ہے ہے جہاں کر دیا میں پی راو نڈ ہے مگر

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف