ذیابیطس کے مریضوں کا رمضان میں محفوظ روزے رکھنے کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ ناگزیر
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان میں ذیابیطس کے شکار تقریباً 2 کروڑ 40 سے 2 کروڑ 60 لاکھ افراد رمضان المبارک کے دوران روزہ رکھتے ہیں، تاہم ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد رمضان سے قبل اپنے ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتی، جس کے باعث انہیں کم شوگر، زیادہ شوگر اور دیگر خطرناک پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بات اتوار کو کراچی میں منعقد ہونے والی 12ویں انٹرنیشنل ڈایابیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس کے دوران سامنے آئی، جس کا انعقاد بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈایابیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی (بائیڈ) نے کیا۔ کانفرنس میں ملک بھر کے سینئر ذیابیطس، اینڈوکرائنولوجی، کارڈیالوجی، گیسٹروانٹرولوجی اور انٹرنل میڈیسن کے ماہرین نے شرکت کی۔
ماہرین نے کہا کہ ذیابیطس کے بیشتر مریض مناسب طبی رہنمائی کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر مریض رمضان سے قبل یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ وہ طبی طور پر روزہ رکھنے کے اہل ہیں یا نہیں، ان کی ادویات یا انسولین کی خوراک میں کیا تبدیلی ضروری ہے اور سحری و افطار کے دوران انہیں کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔
کانفرنس کے چیف گیسٹ، پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے بانی اور سابق صدر پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ افراد ٹائپ ٹو ذیابیطس جبکہ لگ بھگ تین لاکھ افراد ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے مطابق ٹائپ ٹو ذیابیطس کے 70 سے 75 فیصد مریض رمضان میں روزہ رکھتے ہیں، جو تعداد کے لحاظ سے تقریباً 2 کروڑ 40 سے 2 کروڑ 60 لاکھ بنتی ہے، جبکہ ٹائپ ون ذیابیطس کے تقریباً 40 فیصد مریض بھی کم از کم کچھ دن روزہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ “روزہ رکھنا مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ جانے بغیر روزہ رکھتے ہیں کہ وہ طبی طور پر اس کے اہل ہیں یا نہیں، ان کی دواؤں یا انسولین کی مقدار میں کیا رد و بدل ہونا چاہیے اور انہیں غذا اور پانی کے استعمال میں کن باتوں کا خیال رکھنا ہے۔ یہ تمام فیصلے صرف معالج ہی کر سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اسلام کسی کو اپنی جان خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا اور صحت کے معاملے میں ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا دینی ذمہ داری بھی بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق صرف 10 سے 15 فیصد مریضوں کو طبی بنیادوں پر روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ مریض نہیں بلکہ معالج کرتا ہے۔
پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے صدر پروفیسر آفتاب محسن نے کہا کہ رمضان خود احتسابی، نظم و ضبط اور اعتدال کا مہینہ ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اسے حد سے زیادہ کھانے پینے سے جوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر متوازن غذا، نیند کی کمی اور طبی منصوبہ بندی کے بغیر روزہ رکھنے سے صحت کے فوائد ضائع ہو جاتے ہیں۔
بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈایابیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر زاہد میاں نے کہا کہ ادارہ گزشتہ 12 برس سے یہ کانفرنس اسی مقصد کے تحت منعقد کر رہا ہے تاکہ مذہبی جذبے اور طبی تحفظ کے درمیان فاصلے کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم روزے سے منع نہیں کرتے، ہم محفوظ روزے کی بات کرتے ہیں۔”
ڈایابیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد سیف الحق نے کہا کہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں ذیابیطس کے 70 سے 85 فیصد مریض ہر صورت روزہ رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے محفوظ روزے سے متعلق آگاہی اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم شوگر اور زیادہ شوگر رمضان کے دوران سب سے عام پیچیدگیاں ہیں، جن سے بروقت طبی مشورے، درست انسولین ڈوز، مناسب غذا اور پانی کے درست استعمال سے بچا جا سکتا ہے۔
پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی سینئر نائب صدر ڈاکٹر سومیہ اقتدار نے کہا کہ مقامی زبانوں میں ڈیجیٹل ہیلتھ ایپس اور ٹیکنالوجی مریضوں کو شوگر مانیٹرنگ، ادویات کی یاددہانی اور محفوظ غذائی منصوبہ بندی میں مؤثر مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے رمضان کے دوران ڈیجیٹل ٹولز اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔
کارڈیالوجسٹ پروفیسر فیروز میمن نے خبردار کیا کہ پاکستان میں رمضان اکثر تلی ہوئی اور میٹھی اشیاء کے زیادہ استعمال کا سبب بن جاتا ہے، جو دل اور شوگر کے مریضوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعتدال کے ساتھ رکھا گیا روزہ دل کی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
کانفرنس میں پروفیسر بشیر کھوڑو، پروفیسر شبین ناز مسعود (سینئر گائناکالوجسٹ اور ڈایابیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جنرل سیکریٹری)، پروفیسر شہلا جاوید اکرم، پروفیسر حکیم علی ابڑو اور پروفیسر اشعر فواد سمیت دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔
ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر ذیابیطس کے مریض ڈاکٹر کے مشورے سے، درست ادویات، مناسب غذا اور باقاعدہ شوگر مانیٹرنگ کے ساتھ روزہ رکھیں تو وہ پیچیدگیوں سے بچ سکتے ہیں اور رمضان کے روحانی اور طبی فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ انٹرنل میڈیسن پاکستان میں ذیابیطس کے ماہرین نے فیصد مریض کے دوران سکتا ہے
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے